رابعہ بصریہ اللہ کی ایک نیک بندی تھیں، ایک چھوٹا ساکمرہ عبادت کے لیے بنا ہوا تھا، وہیں رہتی تھیں، ایک مرتبہ دوپہر کو آرام کر رہی تھیں کہ ایک چور آ گیا، اس نے ادھر ادھر دیکھا اور کوئی چیز نہ ملی تو ایک چادر اس نے اٹھا لی لے جانے کے لیے، جیسے ہی جھک کے چادر اٹھائی تو آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاگیا، بینائی چلی گئی، راستہ نظر ہی نہیں آتا، اس نے گھبرا کر چادر وہیں پھینکی، جیسے ہی چادر پھینکی بینائی لوٹ آئی،
تو وہ بھاگ کے نکلنے لگا، آواز آئی کہ ایک دوست اگر سویا ہوا ہو، دوسرا جاگتا ہے، یہاں چڑیا کو پر مارنے کی اجازت نہیں تم کیسے چادر کو لے کر جا سکتے ہو۔ہم اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرکے تو دیکھیں، مسئلہ بنتا ہے، جب احکام خداوندی کو توڑتے ہی، سنت رسولؐ کو چھوڑتے ہیں پھر اللہ سے امیدیں لگاتے ہیں کہ اللہ ہماری مدد فرمائے گا، جوہمارے کرنے کا کام ہیں وہ ہم کریں اور پھر دیکھیں کہ اللہ اپنی رحمتوں کی کیسی بارش فرماتا ہے۔



















































