ایک کتاب میں تو عجیب بات پڑھی، حضرت مجدد الف ثانیؒ فرمایا کرتے تھے:’’جو میرے بس میں سنتیں تھیں، میں نے اس پر عمل کر لیا، ایک سنت کو پورا کرنے کی تمناتھی، وہ کیا؟ سیدنا حسینؓ چھوٹے تھے، ان کو نبی کریمؐ نے اٹھایا ہوا تھا اور آپؐ پر حسینؓ نے پیشاب کر دیا، اس سے آقاؐ کے کپڑے گیلے ہو گئے،
چنانچہ فرماتے تھے کہ اللہ نے بیٹی تو دی ہے، مگر نواسہ نہیں ہے، بڑی تمناتھی کہ میں بھی اسے اٹھاتا اور میرے بھی کپڑے گیلے ہوتے، مگر نواسہ نہ ہوا، چنانچہ نصیحت فرمائی: اگر میرے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ میری بیٹی کو بیٹا عطا کرے تو اس بچے کو میری قبر پر بٹھا دیاجائے، یہاں تک کہ وہ وہاں پر پیشاب کر دے۔



















































