سیدنا عمرؓ کی عادت مبارکہ تھی، رات کو چکر لگاتے تھے، دیکھتے تھے کہ رعایا کس حال میں ہے، امیر المومنین تھے، ذمہ داری بھی بنتی تھی، چنانچہ آپ ایک مکان کے قریب سے گزرے اس میں کچھ روشنی آئی کچھ باتوں کی آواز سنائی دی، آپ کو محسوس ہوا یہاں نارمل لائف نہیں ہے۔ کہیں ضرور کوئی نہ کوئی گڑ بڑ ہے، آپ کھڑے ہو کر دیکھتے سوچتے رہے، پھر اندر سے کبھی قہقہوں کی آواز آتی،
کبھی کسی مرد اور عورت کی آواز آتی حتیٰ کہ آپ کی بصیرت نے یہ کہا کہ اندر کوئی گناہ ہو رہاہے، دروازہ بندہ تھا، عمر فاروقؓ نے، حمیت اسلامی دل میں بہت تھی، چنانچہ انہوں نے کیا کیا کہ دیوار کے اوپر چڑھ گئے، جب دیوار کے اوپر چڑھ کر انہوں نے گھر کے اندر جھانک کر دیکھا تو ایک مرد تھا اور ایک عورت تھی وہ عورت اس کی بیوی نہیں تھی بلکہ اس عورت کو اس نے گناہ کے لیے رات کو اپنے پاس بلایا تھا، عمر فاروقؓ نے جب اس کو دیکھا تو اس کو دور سے کہا او زنا کرنے والے! اللہ سے خوف کر، اللہ سے ڈر! جب آپ نے اس کو یہ کہا تو اس نے آگے سے جواب دیا کہ اے امیر المومنین! میں نے ایک گناہ کیا اور آپ نے تین گناہ کیے، پوچھا کہ وہ کیسے؟ اس نے کہا کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں فرمایا، (تم تجسس نہ کرو) آپ نے تجسس کیا اور میرے بند گھر کے اندر مجھے دیکھا، دوسری بات کہ قرآن مجید نے کہا کہ، واتوالبیوت من ابوابھا (کہ تم گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہو) اورآپ دروازے کے بجائے دیوار پر چڑھ کر دیکھ رہے ہیں، قرآن مجید نے کہا، ’’کہ تم بغیر اجازت کے داخل نہ ہو اور اہل خانہ کو سلام کرکے گھر میں داخل ہو) اور آپ نے اس کے بغیر مجھ سے گفتگو کی، جب اس نے یہ کہا تو سیدنا عمرؓ کوبھی یہ ہوا کہ اس نے جو یہ تین باتیں کی ہیں، ہیں یہ سچی، تو عمرؓ نے فرمایا کہ اچھا اگر تو سچی توبہ کاوعدہ کرے تو میں اس گناہ کو معاف کرنے کا وعدہ کرتاہوں، چنانچہ اس نے سچی توبہ کی کہ میں آج کے بعد اس گناہ کا مرتکب نہیں ہوگا، عمرؓ نے کہا اچھا تم میری غلطی کو معاف کر دو اور یہ کہہ کر پھر آپؓ وہاں سے آگے تشریف لے گئے۔



















































