ایک مرتبہ سیدنا عمرؓ کے سامنے ایک باپ اپنے بیٹے کو لایا، بیٹا جوانی کی عمر میں تھا مگر وہ ماں باپ کا نافرمان بیٹا تھا اس نے آ کر حضرت عمرؓ کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے مگر میری کوئی بات نہیں مانتا نافرمان بن گیا ہے، آپ اسے سزا دیں یا مجھے سمجھائیں۔
حضرت عمرؓ نے جب باپ کی یہ بات سنی تو بیٹے کو بلا کر پوچھا کہ بیٹا بتاؤ کہ تم اپنے باپ کی نافرمانی کیوں کرتے ہو تو اس کے بیٹے نے آگے سے پوچھا کہ امیرالمومنینؓ: کیا والدین کے ہی اولاد پر حق ہوتے ہیں، یا کوئی اولاد کا بھی ماں باپ پر حق ہوتا ہے، اولاد کے حق بھی ماں باپ پر ہوتے ہیں، اس نے کہا کہ میرے باپ نے میرا کوئی حق ادا نہیں کیا، سب سے پہلے اس نے جو ماں چنی وہ ایک باندی تھی جس کے پاس کوئی علم نہیں تھا، نہ اس کے اخلاق ایسے نہ علم ایسا، اس نے اس کو اپنایا اور اس کے ذریعہ سے میری ولادت ہو گئی تو میرے باپ نے میرا نام جعل رکھا جعل کا لفظی مطلب گندگی کا کیڑا ہوتا ہے، یہ بھی کوئی رکھنے والا نام تھا، جو میرے ماں باپ نے رکھا پھر ماں کے پاس چونکہ دین کا علم نہیں تھا، اس نے مجھ کو کوئی دین کی بات نہیں سکھائی اور میں بڑا ہو کر جوان ہو گیا، اب میں نافرمانی نہیں کروں گا تو کیاکروں گا؟حضرت عمرؓ نے جب یہ بات سنی تو فرمایا کہ بیٹے سے زیادہ تو ماں باپ نے اس کے حقوق کو پامال کیا، اس لیے اب یہ بیٹے سے کوئی مطالبہ نہیں کر سکتے، آپ نے مقدمہ کو خارج کر دیا۔



















































