حضرت شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نے سونے کی انگوٹھی پہنا دی، میں وہ انگوٹھی پہن کر باہر گلی میں نکلا تو ایک ٹھگ مل گیا، اس ٹھگ کے پاس گڑ کی ڈلی تھی، اس نے مجھے اٹھا کر پیار کیا اور مجھے کہنے لگا کہ تم اپنی انگوٹھی کو چکھو! میں نے انگوٹھی کو زبان سے لگایا تو بے ذائقہ تھی، پھر اس کے بعد اس نے گڑ کی ڈلی دی کہ اس کو چکھو! جب میں نے گڑ چکھا تو بڑا مزے دار تھا،
کہنے لگا کہ مزے دار چیز لے لو اور بے مزہ چیز دے دو، کہنے لگے کہ مجھے گڑ کا اتنا مزہ آیا کہ میں نے اسے انگوٹھی اتارنے دی اور گڑ کی ڈلی لے کر گھر واپس آ گیا۔اب بچے تھے، کچے تھے گڑ کی ڈلی کے بدلے سونے کی انگوٹھی دے کر آ گئے، تو اس عمر میں انسان غلطیاں بھی کرتا ہے اور سیکھتا بھی ہے۔فرماتے ہیں: کہ میں ایک مرتبہ اپنے والد کے ساتھ میلہ دیکھنے گیا، والد نے کہا کہ بیٹا! مضبوطی سے میرا ہاتھ پکڑنا، بھیڑ زیادہ ہے، چھوڑنا نہیں، میں نے کہا: بہت اچھا! اب میں چل بھی رہا تھا، ادھر ادھر بھی دیکھ رہا تھا، ادھر ادھر کی چیزیں دیکھنے میں ایسا محو ہوا کہ ہاتھ چھوٹ گیا، اس کے بعد بہت دیر والد مجھے ڈھونڈتے رہے، میں والد صاحب کو ڈھونڈتا رہا، کافی دیر کے بعد اور پریشانی اٹھانے کے بعد والد صاحب نے مجھے ڈھونڈ لیا۔جب انہوں نے مجھے ڈھونڈ لیا تو مجھے کہا کہ تمہیں میں نے کہا تھا کہ ہاتھ پکڑے رکھنا، تم نے کیوں چھوڑا؟ تو میں نے پھر ان کو کہا کہ میں کسی چیز کو دیکھنے میں مشغول ہو گیا، توجہ نہ رہی تو والد صاحب نے میرے کان کھینچے اور کان کھینچ کر کہا کہ دیکھو بچے! جس طرح تم نے اپنے بڑے کا ہاتھ مضبوطی سے نہ پکڑا تو دنیا کے میلے میں گم ہو گئے، اسی طرح تم بڑے ہو کر اپنے بڑوں کا ہاتھ مضبوطی سے نہیں پکڑو گے تو پھر دنیا کے میلے میں گم ہو جاؤ گے،
کہنے لگے کہ بچپن کی والد صاحب کی بتائی ہوئی یہ بات مجھے آج بھی یاد آتی ہے کہ واقعی جو اپنے بڑوں کا ساتھ چھوڑ بیٹھتا ہے وہ پھر دنیا کی جھلملاہٹ کے اندر گم ہی ہو جایا کرتا ہے۔فرماتے ہیں: میں چھوٹا ساتھا، اپنے والد کے ساتھ تہجد میں اٹھ جایا کرتا تھا، ایک رات میں نے تہجد پڑھی تو گھر کے کچھ لوگ سوئے ہوئے تھے، میں نے ابو سے کہا: ابو! دیکھو یہ لوگ سوئے پڑے ہیں،
اٹھ کر تہجد نہیں پڑھتے تو والد صاحب نے کہا: کہ بیٹا! تم اگر سوئے رہتے تو زیادہ بہتر تھا، اس لیے کہ اب جو تم نے یہ بات کی، یہ غیبت میں داخل ہے، ان کو سونے پر اتنا گناہ نہیں ہوگا، جتنا تمہیں غیبت کرنے پر گناہ ہوا۔تو دیکھئے! کس طرح بچہ باتیں کر رہا ہے اور عقلمند باپ اس بچے کو ساتھ ساتھ تعلیم بھی دے رہا ہے، اس کی تربیت بھی کر رہا ہے۔



















































