بعض بچے بچپن میں ہی سعادت کے آثار لے کر آتے ہیں، حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کے ایک بیٹے تھے، حافظ احمد صاحب، اللہ کی شان کی ان کی شادی ہوئی، ایک بچہ ہوا جو بچپن ہی میں فوت ہوگیا، پھر کچھ عرصہ بچہ ہی نہیں ہوا،
امید ہی نہیں لگی سب لوگ فکر مند تھے اور سب چاہتے تھے کہ خاندان قاسمی کا سلسلہ چلتا رہے، علمی گھرانا اور یہ علمی یادگاریں آگے بڑھتی رہیں، قیامت تک ان کا فیض چلے، سب لوگ دعائیں کرتے تھے، کوئی امید ہی نظرنہیں آتی تھی، ایک بزرگ تھے، فتح پور کے رہنے والے، ان کے پاس شیخ الہندؒ نے مولانا عبدالسمیع کو پیغام دے کر بھیجا کہ حضرت! حافظ احمد صاحب کے لیے اولاد کی دعا کریں، یہ گئے اور انہوں نے جا کر پیغام پہنچایا، وہ بزرگ اس خاندان کی علمی وجاہت اور علمی مقام کو جانتے تھے، انہوں نے جب سنا تو تھوڑی دیر تو خاموش رہے پھر کہنے لگے: ہاں ہاں بچہ ہوگا، حافظ ہوگا، قاری ہوگا، عالم ہوگا، اپنے وقت کا مقتدا ہوگا، حاجی بھی ہوگا، یہ الفاظ کہے، اس کے چند دن کے بعد ان کی اہلیہ کو امید لگ گئی اور اللہ نے ان کو بیٹا دیا، جو بڑا ہو کر حضرت قاری محمد طیبؒ بنا، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ماں کے پیٹ سے ہی اللہ بچہ کو ولایت کا نور عطا فرما دیتا ہے اور بہت سی خوبیاں اور اچھے کمالات بچپن سے ہی جھلکنے لگتے ہیں۔



















































