حضرت جنید بغدادیؒ مسجد میں بیٹھے تھے، ایک شخص ان کے پاس آیا، اس نے جبہ پہنا ہوا تھا، اور عمامہ بھی باندھا ہوا تھا، اس کا چہرہ بظاہر منظور نظر آ رہا تھا، گورا، چٹا، خوبصورت تھا، وہ آ کر کہنے لگا، حضرت! مجھے آپ ایک حدیث کا مطلب سمجھا دیجئے پوچھا کون سی حدیث؟ اس نے کہا، حدیث یہ ہے ’’مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے‘‘ حضرت نے اس کا چہرہ دیکھا اور فرمایا او نصرانی کے بیٹے!
اس کا مطلب یہ ہے کہ تو کلمہ پڑھ اور مسلمان ہو جا! یہ سن کر اس کے پسینے چھوٹ گئے وہ کہنے لگا واقعی میں نصرانی ہوں، میں اس لیے آیا تھا کہ میں پہلے آپ سے اس کا معنی پوچھوں گا اور پھر میں آپ کو لوگوں میں رسوا کروں گا کہ آپ اتنے بڑے شیخ بنے پھرتے ہیں لیکن اتنا بھی پتہ نہ چلا کہ میں مومن ہوں یا نہیں، اس سے پتہ چلا کہ واقعی یہ ایک نعمت ہے جو مومن بندے کے دل میں عطا ہوتی ہے، لہٰٰذا اب میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوتا ہوں، اللہ اکبر!!



















































