گلی کے کونے پر رہنے والا شخص مر گیا۔ جب زندہ تھا تو لوگ اسکا اکثر مذاق اڑایا کرتے تھے کیونکہ اسکا قد زرا چھوٹا تھا چہرہ کمزور مگر داڑھی سے مزین تھا،اور سائیکل پر آتا جاتا تھا ۔ایمانداری سے کام کرتا، وقت کا پابند تھا، مذاق اڑانے والوں کو کچھ نہ کہتا بس سلام کر کے گزر جاتا تھا۔ نمازی پرہیزگار تھا۔
لوگوں کو اس سے کچھ زیادہ سروکار نہ تھا کیونکہ اسکے وسائل بڑے محدود تھے اور لوگوں کو غریب دینداروں سے زیادہ سروکار ہوتا بھی کہاں ہے۔ اب وہ چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر مر گیا تو منظر عجیب ہے۔ اب سارے ہی اسکی تعریف کر رہے ہیں ، کہ بڑا نیک انسان تھا، اللہ اسے جنت دے، بڑا بےضرر عمدہ اخلاق والا، بڑے تقوی والا بڑا شریف تھا۔یہ گواہیاں؟؟؟یہ گواہیاں اس کے کردار کا خلاصہ ہیں، یہ گواہیاں اُس نے بڑی مشکل سے حاصل کی ہیں۔کچھ عرصہ قبل ایک امیر آدمی کے جنازے پر جانے کا اتفاق ہوا، لوگوں کا اس سے بڑا میل جول تھا، جب وہ زندہ تھا تو لوگ اسکی تعریفیں کرتے اس سے ملنا جلنا باعث فخر سمجھتے اس کے ظاہری ٹھاٹھ باٹھ سے متاثر اور تعلق بنانے کے خواہاں رہتے اور جب وہ مرگیا تو یہ لوگ اس پر لعن طعن کر رہے تھے، کیونکہ وہ امیر آدمی صرف امیر ہی تھا اور کچھ نہیں تھا۔ اس نے دولت کو سمیٹا ہی تھا بس۔ اوراب یہ گواہیاں اس کے کردار کا خلاصہ تھیں۔مردے کو بُرا کہنا جائز نہیں اس سے روکا گیا ہے کہ وہ اپنے انجام کو پہنچ چکے ۔یہ گواہیاں لکھی جاتی ہیں۔ بڑی قیمتی ہوتی ہیں۔اللہ کا عدل بھی بڑا عجیب ہے وہ سورہ المنافقون میں کہتا ہے کہوَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ ساری عزت اللہ، اس کے رسولﷺ اور مومنین کے لیئے ہے۔اور اللہ کا فرمان سچا ہے۔ دنیا دار کتنے ہی طعنے دیں مگر مومن عزت پا ہی لیتا ہے جیتے جی پائے یا مر کے۔ اور اسلام کے علاوہ میں اگر کوئی عزت تلاش کرے تو پھر عزت نہیں ملتی کچھ اور ملتا ہے۔



















































