اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

وہ محل جس میں 13750 ملازم اور 13382 غلام تهے آج کس حال میں ہے؟

datetime 14  اپریل‬‮  2017 |

اندلس کے مسلم حکمرانوں میں سلطان عبدالرحمان ثالث بہت مشہور ہے – وه 300 ھ میں تخت پر بیٹها اور 350 ھ میں بہتر سال کی عمر میں وفات پائی – اس کی ایک عیسائی بیوی تهی جس کا نام زہرا تها – سلطان نے اپنی اس بیوی کے نام پرقرطبہ کے کنارے ایک شاندار محل تعمیر کیا اور اس کا نام الزہرا رکها – چار میل لمبا اور تین میل چوڑا یہ محل اتنا بڑا تها کہ اس کو قصر الزہرا کے بجائے مدینتہ الزہرا کہنے لگے –

اس محل کی تعمیر 325 ھ میں شروع ہوئی اور پچیس سال میں 350 ھ میں مکمل ہوئی – المقری نے اس محل کی جو تفصیلات لکهی ہیں اس کے لحاظ سے یہ محل الف لیلہ کا کوئی طلسماتی شہر معلوم ہوتا ہے -اس محل کے بنانے پر دس ہزار معمار ، چار ہزار اونٹ اور خچر روزانہ کام کرتے تهے – اس میں 4316 برج اور ستون تهے – سنگ مرمر اور دوسرے بہت سے قیمتی سامان ، ترکی ، فرانس ، یونان ، شام اور افریقہ کے ملکوں کے بادشاہوں نے بطور تحفہ دئے تهے – اس کی چهتوں میں سونے چاندی کا کام اس کثرت سے کیا گیا تها کہ دیکهنے والوں کی آنکھ چمکتی تهی – اس محل کے انتظام اور نگرانی کے لئے 13750 ملازم مقرر تهے – اس کے علاوه 13382 غلام تهے – حرم سرا کے اندر چھ ہزار عورتیں خدمت گزاری کے لئے حاضر رہا کرتی تهیں – سارا قصر باغات اور فواروں سے گلزار رہتاتها – یورپ اور دوسرے ملکوں کے سیاح کثرت سے اس کو دیکهنے کے لئے آتے رہتے تهے -مگر اس عظیم الشان محل کا کیا انجام ہوا – 25 سال میں موجوده معیار سے ایک کهرب روپیہ سے بهی زیاده میں بننے والا یہ محل صرف پچاس سال میں ختم ہو گیا – اندلس کے مسلم حکمرانوں کے باہمی اختلاف کی وجہ سے عیسائیوں نے ان کے اوپر قابو پالیا اور ان کو شکست دے کر ان کے نام و نشان تک کو مٹا ڈالا ، قرطبہ کا الزہرا کهنڈر بنا دیا گیا -اس کے بعد اس پر زمانہ کی گرد پڑتی رہی – یہاں تک کہ وه نظروں سے غائب ہو گیا – موجوده زمانہ میں اس مقام کی کهدائی کی گئ ہے-

مگر کهدائی کرنے والوں کو وہاں ٹوٹی ہوئی نالیوں کے سوا اور کچهہ نہیں ملا -دنیا میں عیش و آرام کے نشانات کو مٹا کر خدا دکهاتا ہے کہ اس کی نظر میں یہاں کے عیش و آرام کی کوئی قیمت نہیں ، مگر کوئی آدمی اس سے سبق نہیں لیتا – ہر بعد والا عین اسی مقام پر اپنا عیش خانہ بنانے میں مصروف ہو جاتا ہے جہاں اس کے پیش رو کا عیش خانہ برباد ہوا تها۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…