اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

وہ ہاتھ میں گوشت کا لوتھڑا لیکر پیدا ہوا

datetime 14  اپریل‬‮  2017 |

امیر تیمور ایک عام سپاہی تھا ۔اس نے محنت کی ۔ وہ تیمورلنگ بنا ۔اس نے آدھی دنیا فتح کی۔چنگیز خان خانہ بدوشوں کے ہاں پیدا ہوا تھا۔جس روزوہ پیدا ہوا ۔آسمان گرجا تھا بجلی کڑکی تھی ۔وہ ہاتھ میں گوشت کا لوتھڑا لیکر پیدا ہوا۔چنگیز نے دشت سے نکال کر خانہ بدوشوں کو آدھی دنیا کا حمکران بنادیا۔ظہیر الدین بابر بھی کچھ نہ تھا۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ شیبانی خان سے شکست کھانے اوراپنی بہن خانزادہ سے محرومی کے بعد بابر ایک سال خانہ بدوشوں کیساتھ محنت مزدوری کرتا رہا۔ لیکن بابر چٹان تھا کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔دنیا مغلوں کو جانتی ہے لیکن مغل بادشاہت کے پس پردہ بابر کی محںت سے ناواقف ہے۔احمد درانی کو بہت کم لوگ جانتے ہیں ایک عام سپاہی تھا۔نادر شاہ کے ساتھ ہندوستان آیا۔ایک معروف نواب  انہوں نے اس کا چہرہ دیکھا پھر ہاتھ لکیریں دیکھیں اور پریشان ہوگئے بار بار احمد کو تکے جارہے تھے۔نادر شاہ نے پوچھا نواب صاحب کیا بات ہے آپ احمد کوتکے جارہے ہیں کوئی خاص بات ہے؟ نواب صاحب نے کہا اس لڑکے میں جونشانیاں ہیں وہ بادشاہوں والی ہیں یہ ضرور بادشاہ بنے گا لیکن کہاں اور کیسے یہ معلوم نہیں ۔ اورنادرشاہ اس لڑکے کو بلاتا ہے اور تلوار گردن پر رکھتا ہے تمہیں مار دوں ؟ احمد کہتا ہے اف بھی نہیں کروں گا یہ جان آپ کی ہے۔نادرشاہ کہتا ہے تم ایک دن ضرور شاہ بنوگے بس میرے خاندان کا خیال رکھنا۔اور واقعی وہ لڑکا شاہ بنتا ہے محنت اور جستجو اسے اس مقام پر لاکھڑا کرتی ہےکہ تاریخ میں احمد شاہ ابدالی کانام ہمیشہ کے لئے رقم ہوجاتاہے۔ایک عام سا پٹھان لڑکا فرید خان جسے کوئی نہیں جانتا سوتیلی ماں کے ظلم سہتا ہے لیکن کبھی ہار نہیں مانتا اور ہھر تاریخ اسے شیرشاہ سوری کا نام دینے پر مجبور ہوجاتی ہے۔بیبرس سے قطب الدین ایبک تک۔

ہینی بال سے جولیس سیزر تک یہ سب خاص نہیں تھے عام تھے۔محنت کی محنت کی جستجو کی اور جب ایسا کریں گے تو پھر عہد حاضر میں ایک معمولی سیکیورٹی گارڈ کے بیٹے اورفٹ پاتھ پر رات بسرکرنے والے اس لڑکے کو دیکھیں جسے آج ہم رجب طیب اردیوان کے نام سے جانتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…