حضرت اقدس تھانویؒ فرماتے ہیں کہ ایک بچہ بہت ہی ذہین تھا، وہ ابھی بہت چھوٹا تھا، ایک مرتبہ میں نے اس کو بلوا کر پوچھا کہ آپ کو عربی اچھی لگتی ہے یا انگریزی؟ وہ کہنے لگا: عربی زبان، میں نے پوچھا: آپ کو عربی اچھی کیوں لگتی ہے؟ وہ کہنے لگا: اس لیے کہ قرآن مجید عربی زبان میں ہے، حضرت فرماتے ہیں کہ میں نے پھر اس سے پوچھا کہ عربی پڑھ کر کھائے گا کہاں سے؟
اس نے یہ سوال سن کر بڑے وثوق سے جواب دیا کہ جب بندہ عربی پڑھتا ہے تو وہ خدا کا ہو جاتا ہے اور جب خدا کا ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں ڈالتا ہے کہ اسے دو، وہ دیتے ہیں اور یہ کھاتے ہیں، میں نے کہا: یہ بھی ٹھیک ہے لیکن لوگ ایسے شخص کو ذلیل سمجھتے ہیں، وہ کہنے لگا: ذلت تو تب ہوتی ہے جب وہ کسی سے مانگتا ہو، وہ مانگتا ہی کب ہے، لوگ تو ہاتھ جوڑ کر دیتے ہیں۔حضرت فرماتے ہیں کہ میں اس کی ذہانت دیکھ کر حیرت سے اس کا منہ تکتا رہا کہ یہ اتنی چھوٹی عمر میں اتنی سمجھ رکھتا ہے۔۔۔ اللہ اکبر۔



















































