حضرت حسن بصری جواہرات کی تجارت کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ روم تشریف لے گئے۔ وہاں کے وزیر کے ساتھ ملاقات ہوئی، وزیر نے کہاکہ آج ہم ایک جگہ جا رہےہیں، آپ بھی ہمراہ چلئے۔ آپ راضی ہوگئے اور اُن کے ہمراہ ایک جنگل کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہاں جا کر دیکھا کہ ایک قیمتی خیمہ ایستادہ ہے۔ وزیر کے پہنچتے ھی پہلےایک لشکرِ جرار نے خیمے کا طواف کیا،
پھر دانشوروں، حکماء اور فلاسفروں کے ایک جمِ غفیر نے اُسی خیمے کا طواف کیا۔ پھر حسین و جمیل عورتیں جو زرق برق لباس پہنے اور ہاتھوں میں زر و جواہرات سے بھرے طشت اٹھائے اسی خیمے کا طواف کرنے لگیں۔ جب وہ لوٹ آئیں تو بادشاہ خود اور اسکے وزیر خیمے میں گئے اور پھر کچھ ہی دیر بعد لوٹ آئے۔ یہ نظارہ دیکھ کر حسن بصری (رح) بہت دیر تک سوچتے رہے۔ جب کچھ سمجھ نہ آیا تو وزیر سے اس معاملے کے متعلق دریافت کیا۔ وزیر نے بتایا کہ قیصرِ روم کا اکلوتا فرزند جو تھا نہائت خوبرو تھا حادثاتی طور پر فوت ہوگیا۔ اس خیمے کے اندر اسکی قبر ہے۔ ھم لوگ ہر سال اسی طرح اسکی زیارت کو آتے ھیں۔ اور اسی قسم کا مظاہرہ کر کے دراصل صاحبِ قبر کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر تمہیں زندہ رکھنے کی ہماری زرّہ بھر بھی بساط ہوتی تو ہم تمام فوج، دانشوروں یا مال و دولت سے ایسا کر گزرتے۔ مگر تیرا معاملہ تو ایسی ذات کے ساتھ ہے کہ تیرا باپ تو کیا یہ کُل کائنات کی تمام طاقتیں اُس کے سامنے ہیچ ہیں۔ یہ بات سُن کر حضرت حسن بصری (رح) پر اسقدر گہرا اثر ہوا کہ اپنا کاروبار چھوڑ کر بصرہ واپس آگئے۔ اور تمام بیش قیمت جواہرات غرباء میں تقسیم کر دیئے اور ترکِ دنیا کر کے گوشہ نشین ہو گئے۔ اور ستّر سال تک ایسی عبادت کی کہ اپنے زمانے کے تمام زاہدوں پر سبقت لے گئے۔



















































