امام ترمذیؒ آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے، ظاہری بینائی چلی گئی تھی، ایک دفعہ حرمین شریفین کے سفر پر جا رہے تھے، اونٹ پر سوار تھے، اب اونٹ ویسے بھی اونچا ہوتا ہے اور جو بندہ اونٹ کے اوپر بیٹھا ہوتا ہے، ماشاء اللہ وہ کافی اونچا پہنچا ہوا ہوتا ہے،
اگر سڑک کے اِدھر اُدھر درخت لگے ہوئے ہوں تو ڈر رہتا ہے کہ سر کو نہ لگیں، امام ترمذیؒ اونٹ پر سوار جا رہے تھے کہ ایک جگہ امام صاحب نے سر بالکل نیچے جھکا لیا، لوگ بڑے حیران ہوئے، آگے جا کر پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو پوچھنے والے نے پوچھا؟ حضرت! آپ نے سر ایسے کیوں جھکا لیا، فرمانے لگے، وہ جو درخت تھا اس کی شاخوں سے بچنے کے لیے میں نے سرنیچے جھکایا، حضرت! یہاں تو درخت کوئی نہیں، پوچھنے لگے کوئی نہیں۔۔۔؟؟؟ حضرت! یہاں تو درخت ہے ہی نہیں، فرمانے لگے، رک جاؤ، سب رک گئے، فرمایا کہ علاقے کے لوگوں سے پتہ کرو کہ یہاں پر پہلے درخت تھا جسے کاٹ دیا گیا یا درخت تھا ہی نہیں، خادم نے کہا کہ حضرت! میں پتہ تو کرکے آتا ہوں مگر یہ اتنا بڑا مسئلہ تو کوئی نہیں ہے، فرمانے لگے کہ نہیں، مسئلہ ہے، اس لیے کہ میری یادداشت مجھے بتاتی ہے کہ یہاں درخت تھا، اگر مجھے بھول ہوگئی ہے تو پھر آج کے بعد میں حدیث نقل کرنا بند کر دوں گا، کیونکہ میری یادداشت ٹھیک نہیں رہی، اس لیے اس کی ابھی پرکھ ہونا ضروری ہے، چنانچہ اہل علاقہ سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ درخت تھا، مسافروں کے لیے مشکل ہوتی تھی، ٹہنیاں نیچے آ جاتی تھیں، ہم نے وہ درخت جڑ سے ہی نکال دیا، امام ترمذیؒ نے فرمایا کہ الحمدللہ! میں حدیث کی روایت کو آئندہ جاری رکھوں گا، ایسی قوت حافظہ۔۔۔! اللہ اکبر!۔۔۔ یہ کیسے ملتی ہے؟ تقویٰ اور پرہیز گاری سے ملتی ہے۔



















































