انسان جانوروں کو سدھا بھی لیتا ہے، حالانکہ جانور طاقت اور سائز میں انسان سے زیادہ بڑے ہوتے ہیں، ہاتھی کو قابو کر لینا کوئی معمولی بات نہیں، اس کا وزن ٹنوں میں ہوتا ہے اور اس کی طاقت بھی بہت ہوتی ہے، مولانا محمد انعام الحق قاسمی بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ امریکہ میں سفر کر رہے تھے سفر کے دوران ڈرائیور نے کہا: حضرت! ہم اس وقت ایک ایسے ایگزٹ پر پہنچ چکے ہیں کہ ہم دو منٹ کے اندر اندر ایک چڑیا گھر کے دروازے پر پہنچ جائیں گے اور اس وقت چڑیا گھر بند ہونے والا ہے،
آخر میں وہ اپنا ایک فائنل پروگرام پیش کرتے ہیں جو بہت ہی دل چسپ ہوتا ہے، آپ اگر اجازت دیں تو وہ دیکھنے چلیں، کیوں کہ ہمارے پاس ٹائم بھی ہے۔میں نے جواب میں کہا:مرغے دل را گلشن بہتر زکوئے یار نیست۔۔طالب دیدار را ذوق گل و گلزار نیست۔’’دل کے مرغ کو باغ دوست کی گلی سے زیادہ اچھا نہیں، دیدار کے طالب کو گل و گلزار کا ذوق نہیں ہوتا۔‘‘مگر دونوں بچے ساتھ تھے، ابو جی! جانور کا شو ہے، اگر ہمیں دیکھیں گے تو ہماری معلومات میں بھی اضافہ ہو گا اور اچھا بھی لگے گا، خیر، بچوں کا شوق دیکھ کر میں نے کہا: چلو چلتے ہیں، چنانچہ دو منٹ کے اندر ہم دروازے پر پہنچ گئے۔ہم نے دیکھا کہ ایک بہت بڑے گراؤنڈ کے اندر ایک ہاتھی کھڑا تھا، انہوں نے اس کے گلے میں ایک بیلٹ باندھ رکھا تھا اور اس بیلٹ کے ساتھ کم از کم تین انچ موٹا اور کئی فرلانگوں کے حساب سے لمبا رسا باندھا ہوا تھا، ہم لوگ کار کے اندر ہی بیٹھ کر یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ آئیٹم یہ تھا کہ جتنے لوگوں نے آج کے دن اس چڑیا گھر کو دیکھا وہ آخری وقت میں اس ہاتھی کے ساتھ رسہ کشی کریں، چنانچہ ہم نے دیکھا کہ یہ وہاں ہزاروں کی تعداد میں مردوں اور عورتوں نے رسہ پکڑا ہوا ہے اور رسہ کشی کے لیے بالکل تیار کھڑے ہیں۔جو آدمی ان کو یہ گیم کروا رہا تھا، اس نے اعلان کیا: جی آج تک ہسٹری میں جتنے بھی لوگ یہاں پر آئے وہ ہاتھی سے جیت نہیں سکے،
آج اگر آپ لوگ ہمت کرکے جیت جائیں گے تو آپ ایک ریکارڈ قائم کر لیں گے۔اس کے بعد اس نے اشارہ کیا اور سب لوگوں نے مل کر اس کو کھینچنا شروع کر دیا، ہماری جہاں تک نظر جاتی تھی وہاں تک ہمیں ایک لمبے گراؤنڈ کے اندر چیونٹیوں کی طرح لوگ نظر آ رہے تھے، جب سب نے زور لگایا تو ہم نے دیکھا کہ وہ ہاتھی ایک قدم پیچھے ہٹا۔۔۔ پھر دوسرا قدم۔۔۔ پھر تیسرا قدم۔۔۔ جب وہ ہاتھی بارہ قدم پیچھے ہٹا تو اس شخص نے پھر اعلان کیا کہ ایک قدم باقی رہ گیا ہے،
اگر آپ لوگ اب ہاتھی کو پیچھے کھینچ لیں تو آپ جیت جائیں گے اور ایک ریکارڈ قائم کر لیں گے، اس کے اس اعلان کے بعد لوگوں نے زور لگانے کی انتہا کر دی، ہمارا خیال تھا کہ ہاتھی بڑے آرام کے ساتھ ایک قدم پیچھے آ جائے گا، لیکن جب انہوں نے زور لگانے کی انتہا کر دی تو اس وقت ہاتھی نے چلنا شروع کر دیا اور سب بندوں کو چیونٹیوں کی طرح گھسیٹتے ہوئے آگے چلاگیا۔
بعد میں پتہ چلا کہ انہوں نے ہاتھی کو سکھایا ہوا تھا کہ تو نے بارہ قدم پیچھے آنا ہے اور آخر قدم پر جب یہ خوب زور لگائیں تو تم نے سب کو کھینچ کر آگے کر دینا ہے، یہ دیکھ کر ہم بہت حیران ہوئے کہ پانچ سات ہزار بندوں کی طاقت ایک طرف اور ایک ہاتھی کی طاقت ایک طرف، ہاتھی پھر بھی طاقتور ثابت ہوا لیکن انسان کی عقل کو دیکھئے کہ وہ اس عقل کے بل بوتے پر اس ہاتھی کو بھی قابو میں لے کر سدھا لیتا ہے۔



















































