ایک بندے نے ریچھ پالا ہوا تھا، تو اس کے دل میں خیال آیا کہ بھئی میں جب دوپہر کو سوتا ہوں گرمی ہوتی ہے تو ریچھ کو کیوں نہ پنکھا کرنا سکھاؤں، اس نے ریچھ کو پنکھا کرنا سکھایا،
اب مالک سو جاتا اور ریچھ پنکھا کرتا، لوگوں نے منع بھی کیا بھئی یہ جانور ہے اس کے ساتھ ایسا معاملہ نہ کرو مگر نہیں اسے سکھا دیا، چنانچہ کچھ دن تو ایسا چلتا رہوا، ایک دن مالک سویا ہواتھا اور ریچھ پنکھا کر رہا تھا، ایک مکھی آئی وہ اس سوئے ہوئے بندے کے کبھی ماتھے پر بیٹھے کبھی ناک پر بیٹھے، اب اس ریچھ نے اس مکھی کو اڑانے کی پوری کوشش کی، وہ بھی مکھی تھی کہاں اڑتی۔مگس ہرگز نہ خواہد رفت از دکان حلوائی ایک حلوائی کی دکان پر مکھی نہیں ہٹتی اور ایک کبھی کبھی کسی چہرے پر بیٹھ جائے تو بھی نہیں ہٹتی، ہٹاؤ تو نہیں ہٹتی تو جب اس نے کئی بار اس کو ہٹایا اور مکھی نہ ہٹی تو ریچھ کو غصہ آیا اس نے کہا اچھا میں اس مکھی کی خبر لیتا ہوں، چنانچہ ایک پتھر بھاری سا پڑاتھا اس نے اٹھایا اور اس مکھی کو دے مارا اور اپنے مالک کے دماغ کا کچومر نکال دیا۔تو اپنی طرف سے تو اس نے مکھی کو مارا لیکن عقل اتنی نہیں تھی کہ آگے اس کے سر کا کیا بنے گا۔



















































