ایک وزیر کے دل میں ذوق الہی پیدا ھوا اور اُس نے بادشاہ کی خدمتِ وزارت چھوڑ کر راہ فقر اختیار کر لی۔ ایک مدت کے بعد بادشاہ کی اُس سے ملاقات ہوئی تو اُس نے پوچھا۔۔ “تم نے میری ملازمت کیوں چھوڑی؟ “وزیر جو اب تک درویش بن چکا تھا’ اس نے کہا ” اے بادشاہ ! تجھ میں پانچ باتیں تھیں۔ایک یہ کہ تو میرے سامنے کھانا کھاتا تھا لیکن مجھے نہیں کھلاتا تھا۔ اب میں اُس خداۓ پاک کی خدمت میں ہوں
جو خود نہیں کھاتا مگر مجھے کھلاتا ھے۔۔دوسری یہ کہ میں تیرے سامنے کھڑا رہتا تھا لیکن تو نے مجھے کبھی بیٹھنے کو نہیں کہا۔۔ اب میں اپنے پروردگار کی خدمت میں ہوں تو وہ مجھے چار رکعت کی نماز میں دو دفعہ بٹھاتا ھے جس سے مجھے اُس کی عبادت کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ تیسری بات یہ کہ تو رات کو سوتا تھا اور میں تیری حفاظت کے لیے جاگتا تھا۔ تم نے کبھی نہیں کہا تھا کہ گھڑی بھر تم بھی سو لو۔ اب میں اپنے پروردگار کی خدمت میں ہوں تو وہ خود نہیں سوتا بلکہ میری حفاظت کرتا ہے اور میں سوتا ہوں۔ ۔چوتھی یہ کہ میں ہر وقت ڈرا رہتا تھا کہ کہیں تم نہ مر جاؤ۔ اب میں اپنے پروردگار کی خدمت میں ہوں جسے خود مرنا نہیں اور مجھے اُس نے اپنے زکر سے حیاتِ جاوداں بخش دی ہے۔ پانچویں بات یہ کہ میں ہر وقت ڈرا رہتا تھا کہ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی تو تُو مجھے سزا دے گا۔ میں اب اپنے پروردگار کی خدمت میں ہوں تو مجھے ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ اگر مجھ سے کوئی خطا ہو بھی جاتی ہے تو میں توبہ و استغفار کر لیتا ہوں اور وہ مجھے بخش دیتا ہے۔



















































