اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ابن جریر طبریؒ کا تصنیفی کارنامہ

datetime 12  اپریل‬‮  2017 |

امام ابن جریر طبریؒ ان کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اتنی کتابیں لکھیں کہ ان کے صفحات کی تعداد تین لاکھ اٹھاون ہزارتھی، تین لاکھ اٹھاون ہزار صفحے لکھ لینا آسان بات نہیں، اللہ اکبر کبیرا۔ان کی ٹوٹل زندگی پرجب اس کا (Divide) کیا گیا تو (Per day) کی (Eighteen pages average) بنے، اور اگر ابتدا کے پندرہ سولہ سال جو علم حاصل کرنے کے ہیں وہ نکال دیے جائیں تو یہ (Averge Forty) سے اوپر چلی جاتی ہے،

اب ہم روزانہ ایک نئی کتب کے چالیس صفحے نہیں پڑھ سکتے وہ نئی کتاب کے چالیس صفحے لکھ دیا کرتے تھے، اب ذرا اس کو بیٹھ کے سوچیں تو پھر اندازہ ہو گا، آج تو دیکھئے لکھنے کے لیے ہمارے پاس ایسے پین ہیں کہ آپ صفحے کے اوپر سے شروع کریں تو نیچے تک اس کے مکمل ہونے تک اس کے اندر کوئی (Ink) ڈالنے کی ضرورت پیش نہیں آتی، پین کو اٹھانے کی ضرورت پیش نہیں آتی، اوران کے پاس تو قلم اور دوات ہوتی تھی، ہر لفظ کے لیے ان کو دوات میں سے سیاہی لینی پڑتی تھی، پھر قلم خراب ہو جاتی تھی سیاہی کم ہو جاتی تھی، آج ہمارے پاس تو (Air condition envirement) ہے ان کو توگرمیوں کے اندر دھوپ کے اندر پسینے کی حالت میں بیٹھ کر لکھنا پڑتا تھا، آج ہمارے پاس بجلی کی نعمت ہے، ان کے پاس چراغوں کی روشنی بھی مشکل ہوتی تھی تو ان حالات میں ان (Resavrses) میں ان کا اتنے صفحات لکھ جانا اس بات کی دلیل ہے کہ واقعی ہی انہوں نے زندگی کے ایک ایک منٹ کو صحیح طریقے سے گزارا ہو گا۔(2)۔۔۔ شاگردوں نے کہا حضرت تفسیر لکھ دیں، فرمایا بہت اچھا اب انہوں نے تفسیر بیان کرنی شروع کر دی، شاگردوں نے لکھنی شروع کر دی، انہوں نے محسوس کیا کہ ایک ایک لفظ پر علم کے خزانے ہی کھلتے جا رہے ہیں، اور وہ تو لکھ لکھ کے تھک جاتے تھے تو انہوں نے پوچھا کہ حضرت کتنی بڑی تفسیر ہو گی؟

فرمایا تیس ہزار صفحات کی، تو جب وہ دوچار مہینے انہوں نے لکھا تو شاگردوں نے ہاتھ جوڑے کہ تیس ہزار صفحات نہیں لکھے جاتے، چنانچہ (Negotiate) کریں انہوں نے کہا کہ اچھا میں اس کو بہت مختصر کرتا ہوں، چنانچہ انہوں نے سات ہزار صفحات کی تفسیر لکھوائی اور اس کو لکھنے میں ان کو سات سال لگ گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…