اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

اولاد پر ماں کی مامتا

datetime 12  اپریل‬‮  2017 |

ایک دیہاتی علاقے میں بوڑھے ماں باپ تھے، اللہ نے بڑھاپے میں ان کو اولادعطا کر دی، بچے کو انہوں نے پڑھایا، بچہ ذہین تھا، حتیٰ کہ وہ بچہ پڑھ لکھ کر انجینئر بن گیا، اب جب وہ انجینئر بنا تو شہر کے اندر اس کو بڑی اچھی نوکری مل گئی، کوٹھی مل گئی، کار مل گئی، اس نے ماں باپ کو کہا: جی آئیں! میرے ساتھ شہر میں رہیں، وہ بیٹے کے پاس شہر میں آگئے، ماں باپ چونکہ دیہات میں رہنے کے عادی تھے،

رشتہ داریاں وہیں تھیں اور آزاد فضا تھی اور وہ اس ماحول میں ایڈجسٹ ہو چکے تھے، وہ کچھ دن تو شہر میں رہے لیکن رشتہ داروں کی خوشی غمی میں باربار گاؤں جانا پڑتاتھا، تو ماں باپ نے کہا کہ بیٹے! ہم سے بار بار یہ سفر نہیں ہوتے، ہمیں آپ وہیں دیہات میں رہنے دو، آپ نے اگر رہنا ہے تو آپ شہر میں رہ لو، آتے رہنا، ہم سے ملتے رہنا۔چنانچہ اس طرح بیٹے نے شہر میں رہنا شروع کر دیا، کچھ عرصے کے بعد اس نے سوچا کہ بھئی اب ہر طرح سے میں سیٹ تو ہو ہی چکاہوں تو مجھے شادی کرلینی چاہئے، شہر کے ایک بڑے معزز گھرانے کی ایک خوبصورت اور خوب سیرت لڑکی کا پتہ چلا، اس نے ان کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا، ماں باپ سے پوچھا، ماں باپ نے کہا کہ بیٹے! زندگی آپ نے گزارنی ہے جہاں آپ خوش ہوں گے وہیں ہم بھی خوش ہوں گے اس کی شادی بھی ہو گئی۔اب شادی کے بعد یہ اپنی بیوی کو گھر لے کر آیا، تو بیوی کچھ عرصہ تو اس کے ماں باپ کو ملنے دیہات میں جاتی رہی، پھر جب بچوں کے سلسلے شروع ہو جاتے ہیں تو آنا جانا بھی مشکل ہو جاتا ہے، ماں باپ اس بچے کو کہتے کہ آپ ہمارے پاس ہفتے میں ایک دفعہ آ کر مل جایا کرو، یہ ایک دفعہ ملنے چلا جاتا، اب بندہ ہے، کئی دفعہ پلاننگ کی کہ میں دو گھنٹے میں آ جاؤں گا اور دو گھنٹے کی جگہ چھ گھنٹے لگ جاتے ہیں، تو جب اس طرح ذرا دیر ہونی شروع ہوئی تو بیوی کو بھی برا لگا،

وہ پھر بولنا شروع ہو گئی، جیسے عورتوں کی ایک لینگوئج ہوتی ہے، اب یہ نوجوان شریف النفس تھا، اپنی بیوی کو سمجھاتا، وہ بھی امیر گھرانے کی تھی اور آگے سے بات کو بڑھا دیتی تھی، خواہ مخواہ کا بحث مباحثہ آپس میں ہو جاتا اور یہ ہر ہفتے کا مسئلہ ہتا، دو چار سال گزرے تو اب بیوی جو تھی وہ ماں باپ کے پاس جانے سے الرجک ہو گئی، جب یہ جانے لگتا تو وہ ہنگامہ کر دیتی، یہ پریشان کہ وہاں نہ جاؤں تو ماں باپ ناراض اور اگر جاؤں تو بیوی ناراض ،

سوچتا تھا کہ میں کیسے اس مصیبت سے جان چھڑاؤں؟ اتنے میں اس کو سعودی عرب سے ایک جاب (آفر) آ گئی، بہت معقول پیکیج تھا، اس نے ماں باپ کو جا کر بتایا کہ مجھے تو سعودی عرب میں نوکری مل رہی ہے، ماں باپ بڑے خوش ہوئے، بیٹے! ہمارا اللہ حافظ ہے تم اس دیش میں جاؤ گے، اللہ کا گھر دیکھو گے، بیٹے! ہمارے لیے یہی خوشی کافی ہے، ماں باپ نے اجازت دے دی، یہ بیوی بچوں کو لے کر مکہ مکرمہ آ گیا، اس زمانے میں ٹیلی فون تو زیادہ ہوتے نہیں تھے،

بس حج عمرے پر جو لوگ آتے تھے انہیں کے ذریعہ پیغام رسانی ہوتی تھی، یا کوئی چیز ایک دوسرے کی پہنچا دی جاتی تھی، چنانچہ یہ نوجوان شروع میں ان کے لیے خرچہ بھی بھیجتا رہا اور کبھی کبھی صحت خوشی کے پیغام بھی بھیجتا رہا، لیکن تیرہ سال یہ وہیں پر رہا اور اپنے والدین کی طرف واپس نہ آ سکا، نیک تھا ہر سال حج کرتا تھا، ایک مرتبہ حج کے دوسرے تیسرے دن یہ مطاف میں کھڑا تھا، بیت اللہ کے سامنے زار و قطار رو رہا تھا،

کسی اللہ والے نے دیکھا، پوچھا نوجوانٖ! کیا ہوا؟ کہتا ہے کہ مجھے تیرہ سال ہو گئے ہیں، ہر دفعہ میں حج کرتا ہوں لیکن حج کے دو تین دن کے بعد میں خواب دیکھتا ہوں کہ کوئی کہنے والا کہتا ہے ’’تیرا حج قبول نہیں‘‘ اور میں پریشان ہوں کہ پتہ نہیں کون سی مجھ سے ایسی غلطی ہوتی ہے کہ میرا حج اللہ کی بارگاہ میں قبول ہی نہیں؟ وہ اللہ والے تھے، بندے کی نبض پہچانتے تھے، انہوں نے دو چار باتوں میں اندازہ لگا لیا کہ اس نے تیرہ سال سے ماں باپ کو شکل ہی نہیں دکھائی،

ان کے پاس گیا ہی نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ بوڑھے ماں باپ اس پر خفا ہوں گے، انہوں نے بات سمجھائی کہ بیٹے! جاؤ! ماں باپ زندہ ہیں ان کی خیر خبر لو، پھر واپس آنا، خیر یہ آیا اور آ کر فوراً ٹکٹ بک کروا لی، بیوی نے کچھ آئیں بائیں شائیں کرنے کی کوشش کی مگر یہ نوجوان بھی سیریس تھا اس نے اس کو بھی شیر کی آنکھیں دکھائیں، جب بیوی نے دیکھا کہ بہت سیریس نظر آتا ہے تو چپکے سے ڈر کے مارے بھیگی بلی بن کر بیٹھ گئی۔

خیر اس نے تیاری کی اور واپس اپنے ملک آیا اب جب وہ اپنے گاؤں کے قریب پہنچا تو اس نوجوان کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ میرے ماں باپ اس وقت زندہ بھی ہیں یا نہیں؟ اب یہ سوچ رہا ہے کہ پتہ نہیں میرے ماں باپ کس حال میں ہیں؟ تیرہ سال گئے ہوئے ہوگئے تھے، اس کو ایک نو دس سال کا لڑکا ملا، اس نے اس سے پوچھا کہ وہ فلاں بڑے میاں کا کیا حال ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ بڑے میاں توچھ مہینے ہوئے فوت ہو گئے، البتہ وہ بوڑھی عورت زندہ ہے،

گھر میں ہے اور بڑی بیمار ہے، میں نے سنا ہے کہ ان کا ایک بیٹا ہے جو سعودی عرب گیا ہوا ہے، پتہ نہیں وہ کیسا نامعقول بیٹا ہے جو اپنے ماں باپ کی خبر ہی نہیں لیتا، بچہ بات کرکے چلا گیا لیکن اس نوجوان کے دل کی تار کو چھیڑ گیا، اب اس کو احساس ہوا، اوہو! والد دنیا سے چلے گئے، میں نے آخری وقت میں ان کی شکل ہی نہیں دیکھی، اب تو امی مجھ سے ناراض ہو گی اور امی تو میرا چہرہ نہیں دیکھے گی، امی تو مجھے گھر سے ہی نکال دے گی،

میرے ساتھ بات ہی نہیں کرے گی، اب یہ سوچ رہا ہے کہ میں امی کو کیسے مناؤں گا؟ مغموم دل سے گھر کی طرف جا رہا تھا، بالآخر جب اس نے گھر کے دروازے پر پہنچ کردیکھا تو دروازہ کھلا ہوا تھا کواڑ ملے ہوئے تھے، اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا، اندر داخل ہوا، کیا دیکھتا ہے کہ صحن میں چارپائی کے اوپر اس کی بوڑھی بیمار والدہ لیٹی ہوئی ہے، ہڈیوں کا ڈھانچہ تھی، وہ چارپائی کے ساتھ لگی ہوئی تھی،

اس کو خیال آیا کہ کہیں امی سو رہی ہو تو پہلے آہستہ آہستہ چلتے ہوئے قریب جاتا ہوں چونکہ اس کی والدہ کی آنکھوں پر موتیا آ چکا تھا، جب وہ دبے پاؤں بالکل قریب پہنچا تو وہ حیران ہوا کہ اس کی والدہ کے اس وقت ہاتھ اٹھے ہوئے تھے اور وہ کچھ الفاظ کہہ رہی تھی، گویا اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہی تھی اس نے جب قریب ہو کر سنا تو ماں یہ الفاظ کہہ رہی تھی، اے اللہ! میرا خاندان دنیا سے چلا گیا،

میرا ایک ہی بیٹا ہے جو میرا محرم ہے اللہ! اے بخیریت واپس پہنچا دیا تاکہ اگر میری موت آئے تو مجھے قبر میں اتارنے والا کوئی تو میرا محرم موجود ہو، ماں یہ دعائیں مانگ رہی ہے اور بیٹا سمجھتا ہے کہ ماں مجھے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرے گی، اس نے جب ماں کے یہ الفاظ سنے اس نے فوراً کہا: امی میں آ گیا ہوں، تو ماں چونک اٹھی، آواز سنتے ہی بولی: میرے بیٹے! آ گئے، جی امی! میں آ گیا ہوں،

ماں کہنے لگی: بیٹے! ذرا قریب ہو جانا، میں تمہاری شکل تو دیکھ نہیں سکتی، مجھے اپنا بوسہ ہی لینے دو مجھے اپنی جسم کی خوشبو سونگھنے دو، یہ ماں کی محبت ہوتی ہے، خیر یہ بیٹا دو چاردن وہاں رہا، اللہ کی شان کی ماں بیمار تھی، چند دنوں میں فوت ہو گئی، اس نے اپنی والدہ کو دفنایا کفنایا اور اس ذمہ داری سے فارغ ہو کر کچھ عرصے کے بعد واپس مکہ مکرمہ آ گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…