اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

میں ہر وقت اسکارف کیوں پہنتی ہوں؟

datetime 12  اپریل‬‮  2017 |

تم نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا تھا کہ میں ہر وقت اسکارف کیوں پہنتی ہوں؟ عائشہ سر جھکائے لکڑی کے ٹکڑے کا کنارہ تراشتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ میں تمہیں بتاؤں، میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں وہ خوبصورت لباس پہنوں جو بیوک ادا میں استنبول یا اٹلی اور اسپین کی لڑکیاں پہن کر آتی ہیں۔ بالکل جیسے ماڈلز پہنتی ہیں اور جب وہ اونچی ہیل کے ساتھ ریمپ پہ چلتی آ رہی ہوتی ہیں تو ایک دنیا ان کو حسرت سے دیکھ رہی ہوتی ہے

میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں بھی ایسے اسمارٹ اور ٹرینڈی ڈیزائنر لباس پہن کر جب سڑک پہ چلوں تو لوگ متاثر ہو کر مجھے دیکھیں لیکن وہ سانس لینے کو رکی۔ حیاء بنا پلک جھپکے سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی لیکن پھر مجھے خیال آتا ہے۔ یہ خیال کہ ایک دن میں مر جاؤں گی جیسے تمہاری دوست مر گئی تھی نا اور میں اس مٹی میں چلی جاؤں گی جس کے اوپر میں چلتی ہوں۔ پھر ایک دن سورج مغرب سے نکلے گا اور زمین کا جانور زمین سے نکل کر لوگوں سے باتیں کرے گا اور لال آندھی ہر سو چلے گی اس دن مجھے بھی سب کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ تم نے کبھی اسٹیڈیمز دیکھے ہیں جن میں بڑی بڑی اسکرینز نصب ہوتی ہیں؟ میں خود کو ایسے ہی ایک اسٹیڈیم میں دیکھتی ہوں۔ میدان کے عین وسط میں کھڑے۔ اسکرین پہ میرا چہرا ہوتا ہے اور پورا میدان لوگوں سے بھرا ہوتا ہے۔ سب مجھے ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں اور میں اکیلی وہاں کھڑی ہوتی ہوں۔ میں سوچتی ہوں حیاء۔ اگر اُس وقت میرے رب نے مجھ سے پوچھ لیا کہ “انا طولیہ کی عائشہ گل۔۔ اب بتاؤ تم نے کیا کیا؟ یہ بال یہ چہرہ یہ جسم۔ یہ سب تو میں نے تمہیں دیا تھا۔ یہ نہ تم نے مجھ سے مانگ کر حاصل کیا تھا اور نہ ہی اس کی قیمت ادا کی تھی۔ یہ تو میری امانت تھی۔ پھر تم نے اسے میری مرضی کے مطابق استعمال کیوں نہیں کیا؟ تم نے اس سے وہ کام کیوں کئے جن کو میں نا پسند کرتا ہوں؟ تم نے ان عورتوں کا راستہ کیوں چن لیا جن سے میں ناراض تھا؟ حیاء! میں نے ان سوالوں کے بہت جواب سوچے ہیں

مگر مجھے کوئی جواب مطمئن نہیں کرتا۔ روز صبح اسکارف لینے سے پہلے میری آنکھوں کے سامنے ان تمام حسین عورتوں کے دلکش سراپے گردش کرتے ہیں جو ٹی وی پہ میں نے کبھی دیکھی ہوتی ہیں اور میرا دل کرتا ہے کہ میں بھی ان کا راستہ چن لوں مگر پھر مجھے وہ آخری عدالت یاد آ جاتی ہے۔ تب میں سوچتی ہوں کہ اس دن میں الله کو کیا جواب دوں گی؟ میں ترازو کے ایک پلڑے میں اپنا وہ سراپا ڈالتی ہوں جس میں، میں خود کو اچھی لگتی ہوں اور دوسرے پلڑے میں وہ جس میں، میں الله تعٰالیٰ کو اچھی لگتی ہوں۔ میری پسند کا پلڑا کبھی نہیں جھکتا اور الله کی پسند کا پلڑا کبھی نہیں اٹھتا۔ تم نے پوچھا تھا کہ میں اسکارف کیوں لیتی ہوں۔۔؟؟ سو میں یہ اس لیئے کرتی ہوں کیونکہ میں الله کو ایسے اچھی لگتی ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…