ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ کہیں جانے لگا، ان کے پاس ایک گدھا تھا باپ گدھے پر آگے بیٹھ گیااور اس نے اپنے بیٹے کو پیچھے بٹھا لیا، جب ایک آبادی سے گزرے تو لوگوں نے دیکھ کر کہا: دیکھو، گدھا بے چارہ ایک ہے اور اس پر دو بندوں نے سواری کی ہوئی ہے،
جب اس آدمی نے یہ بات سنی تو اس نے دل میں سوچا کہ لوگ اس بات کو محسوس کر رہے ہیں تو میں بچے کو نیچے اتار دیتاہوں، چنانچہ اس نے بچے کو نیچے اتار دیا، آگے گیا تو لوگوں نے دیکھ کر کہا، اندازہ کرو کہ خود اوپر بیٹھاہے اور چھوٹے سے بچے کو پیدل چلارہاہے، اس نے یہ سن کر کہا کہ میں بچے کو اوپر بٹھا دیتاہوں اور خود پیدل چل لیتاہوں، اب اس نے بچے کو اوپر بٹھا دیا اور خود پیدل چلناشروع کر دیا، کسی نے دیکھا تو کہا: اس کاحال دیکھو کہ گدھے پے ایک چھوٹے سے بچے کو بٹھایا ہواہے اور خود پیدل چل رہا ہے، وہ سوچ میں پڑ گیا کہ اب میں کیاکروں، بالآخر اس نے فیصلہ کیا کہ گدھے پر بیٹھتے ہی نہیں، اب باپ بیٹے نے پیدل چلناشروع کر دیا، کسی نے دیکھا تو کہا: یہ بڑے بے وقوف ہیں، پاس گدھا بھی ہے اور پھر بھی پیدل چل رہے ہیں، اب وہ اور زیادہ پریشان ہوا کہ کریں تو کیاکریں، پھر اسے ذہن میں خیال کہ ہم گدھے کو اٹھالیتے ہیں، چنانچہ جب وہ گدھے کو اٹھانے لگے تو گدھے نے بھی ان کو دولتیاں ماریں اور اوپر سے لوگوں نے کہا: ذرا اس بندے کا حال دیکھو کہ گدھے کو سر پراٹھانے کی کوشش کر رہاہے، آخر میں انہوں نے یہ کہا کہ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم بندوں کو کبھی راضی کر ہی نہیں سکتے۔



















































