ایک بزرگ تھے، جن کا نام بنان حمال (متوفی 316) ہے، ان کو ابن طولون بادشاہ نے بلوایا اور غصے میں ان کو بھوکے شیر کے آگے ڈال دیا، اور کہا کہ میں خود بھی تماشا دیکھوں گا،
جب انہیں شیر کے پنجرے میں ڈال دیا گیا تو شیر آیا اور ان کے قدموں میں اس طرح بیٹھ گیا جیسے کتا اپنے مالک کے پاؤں چاٹنے لگ جاتا ہے وزیر بڑا سمجھدار تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ دیکھو! یہ کوئی اللہ کا مقبول بندہ ہے، اس سے ابھی معافی مانگ لو، ورنہ اگر انہوں نے بد دعا کر دی تو تمہاری آئندہ نسل ہی برباد ہو جائے گی۔ بادشاہ نے اسی وقت ان بزرگ کو بلوایا اور اپنی پگڑی ان کے قدموں میں رکھ دیا اور معافی مانگی اور ان سے کہا کہ میں آپ کو واپس گھر بھیج رہا ہوں، چنانچہ وہ گھر پہنچ گئے، اب بیوی تو سمجھ رہی تھی کہ میرے خاوند کو آج شہید کر دیا گیا، لیکن جب اچانک اس نے اپنے خاوند کو دیکھا تو بڑی حیران ہوئی، اور پوچھا کہ آپ زندہ سلامت کیسے واپس آ گئے؟ انہوں نے سارا واقعہ سنایا کہ یہ واقعہ پیش آیا اور بادشاہ نے مجھے گھر بھیج دیا۔اب بیویاں تو پھر بیویاں ہوتی ہیں، اس کے ذہن میں ایک بات آئی اور خاوند سے کہنے لگی کہ اچھا! ایک بات ذرا سچ سچ بتانا، انہوں نے کہا کہ کیا بات؟ کہنے لگی کہ جب بھوکا شیر تمہاری طرف آیا تھا تمہیں ڈر تو بہت لگا ہو گا، تو بتاؤ کہ اس وقت کیا سوچ رہے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ جب شیر میری طرف آ رہا تھا تو میں اس وقت یہ سوچ رہا تھا کہ پتہ نہیں کہ شیر کا لعاب پاک ہوتا ہے یا ناپاک ہوتا ہے، یعنی ذرا برابر بھی ان کے دلوں میں خوف نہیں تھا، یہ تھے ہمارے اکابر۔



















































