اٹلی کا رہنے والا ایک آدمی تھا،اس نے عربی زبان سیکھی، اس کو ہربل میڈیسن کے ساتھ بڑا لگاؤ تھا، عربی سیکھنے کے بعد وہ ایک لائبریری میں گیا، اسے وہاں پر عربوں کی یونانی حکمت کی کتابیں مل گئیں، اس نے چند کتابوں کا اطالوی زبان میں ترجمہ کر دیا، جب ترجمہ ہوا تو لوگوں نے اس کی کتاب ہاتھوں ہاتھ خرید لی،
پورے ملک میں اس کی شہرت ہو گئی کہ اس نے کتنا اچھا کام کیا کہ اس نے ایسا علم ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کر دیا۔جب ہر طرف اس کی تعریفیں ہو رہی تھیں تو اس بندے کی طبیعت خراب ہوگئی، ڈاکٹر کے پاس تشخیص کے لیے گیا تو ڈاکٹر نے تشخیص کی کہ آپ کو کینسر ہے اور یہ کینسر اتنا پھیل چکا ہے کہ ہمارے خیال میں دو سال کے اندر آپ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک پہنچ جائیں گے، اس سے زیادہ آپ زندہ نہیں رہ سکتے۔جب ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کی زندگی اب دو سال باقی ہے، بیماری بڑھ جائے گی اور علاج نہیں ہو سکے گا تو اس بندے نے سوچا کہ اتنے تھوڑے وقت میں بہت سارے کام کرنے ہیں، لہٰذا مجھے پریشان ہونے کے بجائے زیادہ کام کرنا چاہیے۔چنانچہ وہ کینسر کا مریض لائبریریوں میں گیا اور اس نے یونانی حکمت کی عربی کتابیں ڈھونڈنا شروع کر دیں، بالآخر اس نے اسی (80) کتابیں ڈھونڈ نکالیں، جو عربی زبان میں تھیں اور اطالوی زبان میں ان کا ترجمہ کیا جانا بہتر تھا، پھر اس نے اپنے ساتھ ترجمہ کرنے والوں کی ایک ٹیم بنا لی، ان سے اس نے کہا کہ جو اصطلاحات ہیں ان کا ترجمہ میں کروں گا اور جو سیدھے سیدھے فقرے ہیں ان کا ترجمہ آپ کرتے جائیں، اس طرح اس کا کام تیز ہو گیا، اندازہ لگائیے کے اس بندے نے دو سالوں میں اسی کتابوں کا ترجمہ عربی زبان سے اطالوی زبان میں کر دیا اور ورلڈ بک آف ریکارڈ میں اس بندے کا نام لکھا گیا۔



















































