ایک مرتبہ مجھے (حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی) ٹبہ سلطان پور جانے کا موقع ملا، وہاں بیان کے بعد ایک صاحب اپنے جوان بیٹے کو لے کر میرے پاس آئے، ان کا بیٹا وکیل تھا اور وہ دہریہ بنا ہوا تھا، اس نے ماں باپ کو بہت پریشان کیا ہوا تھا، باپ نے مجھے بتایا کہ یہ میرا بیٹا ہے، اس نے سائنس پڑھی ہے، پتہ نہیں کہ اس کا دماغ کیسے خراب ہوا کہ یہ کہتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے وجود کو نہیں مانتا، میں نے وکیل صاحب سے بات کی تو وہ کہنے لگا، جی میں سائنس پڑھا ہوا ہوں،
میں جب کسی چیز کا مشاہدہ کرتاہوں تو مانتا ہوں، فقط سنی سنائی بات نہیں مانتا، میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگروہ سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا، جب کوئی بندہ سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ ہو تو اسے سمجھانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے، مجھے بھی اندازہ ہو گیا کہ اب گھی ٹیڑھی انگلی سے ہی نکلے گا، سیدھی انگلی سے نہیں نکلے گا، چنانچہ میں نے اس سے پوچھا کہ واقعی آپ سنی سنائی بات کو نہیں مانتے؟ کہنے لگا نہیں، میں سانئس پڑھا ہوا ہوں، اگر چیز مشاہدے سے دیکھتا ہوں تو مانتا ہوں، ورنہ نہیں مانتا، میں نے اس کو پکا کر لیا، جب اچھی طرح پکا ہو گیا تو میں نے کچھ ادھر ادھر کی باتیں کرکے اس سے پوچھا، وکیل! آپ کا نام کیا ہے اس نے اپنا نام بتا دیا، میں نے پھر پوچھا، آپ کے والد کا نام کیاہے ؟ اس نے وہ بھی بتا دیا، میں نے کہا کہ جو آپ نے اپنے والد کا نام بتایا، آپ یہ کیوں مانتے ہیں کہ یہ میرے والد ہیں، دیکھ کر مانا ہے یا سن کر مانا ہے؟ کہنے لگا، سن کر مانا ہے، میں نے کہا کہ پھر آپ یہ کہیں کہ مجھے اپنے باپ کا پتہ ہی نہیں۔۔۔ اب تو اس کا باپ اس پر غضبناک ہونے لگا اور کہنے لگا کہ ہاں بالکل ٹھیک ہے، اب تو کہہ دے کہ مجھے نہیں پتہ کہ میرا باپ کون ہے، چنانچہ اب وہ پریشان ہو گیا کہ اگر یہ بات سارے شہر میں پھیل گئی تو میرا کیا بنے گا۔۔۔ وہ اسی اضطراب میں کہنے لگا، جی میری امی نے مجھے بتایا ہے کہ یہ تمہارا باپ ہے، میں نے کہا، تمہاری امی تو پھربھی جھوٹ بول سکتی ہے، اگر تم ماں کے کہنے پر باپ کو باپ مان لیتے ہو تو کیا نبی کریمؐ کے کہنے پر اللہ تعالیٰ کے وجود کو نہیں مان سکتے۔



















































