ایک امیر والئ کابل گزرے ہیں جن کا نام تھا دوست محمد ان کے بارے میں آتا ہے ایک دفعہ دشمن نے حملہ کیا انہوں نے اپنے بیٹے کو بھیجا کہ اپنی فوج لے کر جاؤ، اور جا کر ان کے ساتھ جنگ کرو، اب جب وہ جنگ ہوئی کچھ دنوں کے بعد ان کی ایجنسی نے ان کو آ کر اطلاع دی کہ شہزادہ بھاگا اور دشمن نے اس پر وار کیا اس کی پیٹھ پہ زخم بھی آئے مگر وہ بچ نکلا اور کہیں روپوش ہو گیا اور اس کو شکست ہو گئی،
اب یہ سن کر والئ کابل کا دل بڑا مغموم ہوا بڑا پریشان ہوا، گھر آیا بیوی نیک تھی، پہچان گئی خاوند کو کوئی صدمہ ہے۔نیک بیویاں ایسے وقت میں اللہ کی نیک بندیاں رحمت کی پیامبر بن کر آتی ہیں اور اپنے خاوند کے دکھ بانٹ لیتی ہیں، اس نے پیار سے پوچھا آج میں آپ کو غمزدہ پاتی ہوں کیا بات ہے؟ خاوند نے بتایا کہ اطلاع آئی ہے کہ میرے بیٹے نے شکست کھائی اس کی پیٹھ پر زخم آئے، زخمی حالت میں بچ نکلا، روپوش ہے، میری ایجنسیوں نے اطلاع دی، جب اس نے یہ سنی تو کہنے لگی: آپ کی بات ٹھیک ہو گی مگر میرے نزدیک یہ بات غلط ہے، کبھی یہ بات ٹھیک نہیں ہو سکتی، خاوند نے کہا وہ کیوں؟ کہنے لگی بس میں کہہ رہی ہوں میں اس کی ماں ہوں میں اس بیٹے کو جانتی ہوں یہ خبر بالکل غلط ہے، آپ تسلی رکھئے غمزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، ہمارا بیٹا ایسا کبھی نہیں کر سکتا، والئ کابل حیران ہے وہ کہنے لگے تجھے کیوں نہیں سمجھ آ رہی مجھے کتنے لوگوں نے اطلاع دی یہ کہنے لگی ہرگز نہیں یہ بات بالکل غلط ہے، چاہے سینکڑوں لوگ آ کر کہیں، مگر پھر بھی یہ بات غلط ہے، اس خاوند نے سوچا عورتوں کی عادت ہوتی ہے، مرغے کی ٹانگ ہانکتی رہتی ہیں اور یہ بات مانتی نہیں ضد کرکے رہ جاتی ہیں، میری بیوی بھی شاید یہی کر رہی ہے، مگر تیسرے دن اطلاع ملی کہ بات تو بالکل غلط تھی، شہزادے کو اللہ نے فتح عطا فرما دی اور وہ فاتح بن کر واپس لوٹا،
جب والئ کابل کو اطلاع ملی، اس نے گھر آ کر بتایا کہ وہ تو بات واقعی غلطی نکلی، میری ایجنسیوں کی بات ٹھیک نہیں تھی مگر یہ تو بتاؤ کہ تمہارا معاملہ کیا ہے، تم نے کیسے کہہ دیا کہ یہ بات غلط ہے کیسے پتہ چل گیا، وہ کہنے لگی یہ ایک راز ہے، میں نے اپنے اور اللہ کے درمیان رکھا تھا، سوچا تھا کسی کو نہیں بتاؤں گی، کہنے لگا میں خاوند ہوں مجھے ضرور بتا دو، کہنے لگی راز یہ ہے کہ جب یہ بچہ میرے پیٹ میں آیا میں نے اس وقت سے کوئی مشتبہ لقمہ اپنے منہ میں نہیں ڈالا
اور جب بچے کی ولادت ہوئی میں نے نیت کر لی میں اس بچے کو ہمیشہ باوضو دودھ پلاؤں گی، جب بھی میں نے بچے کو دودھ پلایا ہمیشہ باوضو ہو کر پلایا، میں نے کبھی بے وضو دودھ نہیں پلایا، اس کی برکت تھی جس کی وجہ سے بچے کے اندر بہادری آئی، اچھے اخلاق آئے، یہ کیسے ممکن ہے میرا بچہ شکست کھاتا، یہ شہید ہو سکتا تھا، یہ دشمن کے سامنے کٹ سکتا تھا مگر پیٹھ پھیر کے نہیں بھاگ سکتا تھا، یہ تو بزدلوں کا کام ہوتا ہے،
اللہ نے میرے گمان کو سچا کر دیا۔تو پہلے وقت کی ملکہ بھی ایسی نیک ہوتی تھیں، اپنے بیٹوں کو باوضو دودھ پلاتی تھیں اور آج کل کی بچیوں کا تو یہ حال ہے سینے سے لگا کر بچوں کو Feed دے رہی ہوتی ہیں سامنے، ٹی وی پر بیٹھ کر ڈرامے دیکھ رہی ہوتی ہیں، گانے سن رہی ہوتی ہیں، تھرکتے جسموں کو دیکھ رہی ہوتی ہیں۔۔۔ تو کیا اس کے اثرات بد بچوں پر نہیں پڑیں گے، ہمیں تو ایسی تربیت کرنی چاہیے کہ بچہ جاں باز بھی ہو اور ایمان و یقیں میں پختہ بھی۔



















































