چنانچہ ایک صحابیؓ تھے علقمہؓ کسی بات پر ماں ان سے ناراض ہو گئی، ان کی وفات کا وقت آ گیا مگر ان کی روح نہیں نکل رہی، نبی کریمؐ کی خدمت میں بات پہنچائی گئی، نبی کریمؐ حضرت عمارؓ کو لے کر حضرت صہیبؓ کو لے کر حضرت کو بلالؓ کو لے کر وہاں تشریف لے گئے، آپ نے یہ صورت حال دیکھی تو والدہ سے کہا کہ آپ بچے کو معاف کر دیں، اس کا دل بہت دکھی تھا، اس نے کہا کہ میں نے اسے معاف نہیں کرنا،
نبی کریمؐ نے بلال کو فرمایا کہ جاؤ لکڑیاں لے کر آؤ تو پوچھا گیا کہ کیوں؟ آپؐ نے فرمایا کہ میں لکڑیوں کو آگ لگاؤں گا اور علقمہ کو اس آگ کے اندر ڈال دوں گا، جب ماں نے یہ دیکھا کہ نبی کریمؐ نے یہ حکم فرما دیا، لکڑیاں لانے کا وہ سمجھ گئی کہ اللہ کے نبی ایسے ہی بات نہیں کر رہے ہیں وہ ایسا ہی کر دیں گے تو لگی منت سماجت کرنے میرے بیٹے کو آگ میں نہ ڈالیں، ماں نے معاف کر دیا اور ان کی روح اسی وقت پرواز کر گئی۔



















































