ایک ڈاکٹر صاحب تھے، وہ دماغی آپریشن کے بڑے ماہر سرجن تھے، جب ان کے پاس کوئی مریض آتا تو وہ بھاری فیس لیتے تھے، ایک دن وہ ہسپتال میں بیٹھے تھے کہ ایک مریض کو لایا گیا، لوگوں نے ان کو اطلاع دی کہ ایک نوجوان بڑی نازک حالت میں ہے لہٰذا آپ اس کا آپریشن کرنے کے لیے آ جائیں،
انہوں نے کہا کہ پہلے اس کی فیس جمع کراؤ، لوگوں نے کہا کہ اس کا کوئی بھی قریب نہیں ہے، سڑک پر ایکسیڈنٹ ہوا ہے، اٹھا کر لائے ہیں، لہٰذا بعد میں فیس کے بارے میں دیکھیں گے، وہ کہنے لگے، پہلے فیس جمع کراؤ، پھر آؤں گا، وہ بتاتے بھی رہے کہ اس کی حالت غیر ہو رہی ہے لیکن اس ڈاکٹر نے انکار کر دیا، جب آدھا گھنٹہ گزر گیا تو اس ڈاکٹر کے گھر سے فون آیا، بیوی نے کہا، مجھے اطلاع ملی ہے کہ اکلوتے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، پتہ کرو وہ کہاں ہے؟ اب ڈاکٹر صاحب نے ڈھونڈنے کے لیے فون کیا تو پتہ چلا کہ وہی نوجوان سگا بیٹا تھا، اب جب آپریشن کے لیے گئے تو پہنچنے سے پہلے دم توڑ چکا تھا۔۔۔ جب پہچان نہیں تھی تو اپنے بیٹے کی ناقدری ہوئی اورجب پہچان ہوئی تو پھر روتے تھے کہ میں ساری زندگی کی کمائی لگا دیتا اور کاش کہ میں اپنے بیٹے کے پاس آ جاتا۔۔۔ اسی طرح بروز قیامت ہم کو حسرت ہو گی کہ ہائے کاش! اس دنیا میں ہمیں بھی خدا کی معرفت حاصل ہو گئی ہوتی تاکہ محبت الٰہی سے دامن دل کو بھر کر لاتے اور سایۂ عرش میں جگہ پاتے۔



















































