ایک صاحب نے مجھے (حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی) ایک عجیب بات بتائی، وہ کہنے لگے کہ ہمارے گھروں کے قریب ایک علاقہ ہے، وہاں پرہیرے زمین کے اوپر پڑے ہوتے ہیں اب حکومت نے اس علاقہ میں جانے پر پابندی لگا دی ہے وہ کہنے لگے کہ ہم لوگ اس علاقہ میں آتے جاتے تھے اور کئی مرتبہ ہم چمکتے ہوئے پتھر دیکھتے بھی تھے مگر ہم سمجھتے تھے کہ یہ ریت کے ذرات ہیں،
انہوں نے بتایا کہ ہم مرغابی کا شکار کرتے تھے اور ان مرغابیوں کے معدے سے یہ چمکدار پتھر نکلتے تھے، ہم ان پتھروں کو اپنے ڈرائینگ روم کے پیالے میں ویسے ہی رکھ دیا کرتے تھے، یہ سلسلہ چلتا رہا اور کسی کو بھی پتہ نہ چلا کہ یہ کیا چیز ہے، وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ بیرون ملک سے ایک مہمان ہمارے گھر آیا، وہ ہیرے کی فیکٹری میں کام کرتاتھا، جب اس نے ان پتھروں کو ایک نظر دیکھا تو کہنے لگا، یہ کیا ہے، تم نے یہ یہاں پیالے میں ڈال کر رکھے ہوئے ہیں، ہم نے کہا کہ یہ ہماری مرغابیوں کے معدے سے نکلتے ہیں، اس نے کہا، خدا کے بندے! اس کے اندر ہیرا ہے جب ہمیں پتہ چلا تو بات آگے بڑھی، حکومت کو بھی پتہ چل گیا، پھر حکومت نے اس علاقہ میں جانے پر پابندی لگا دی، معلوم ہوا کہ دنیا کا آدھے سے زیادہ ہیرا اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو عطا کیا ہوا ہے اور پورا ملک اس ہیرے کی آمدنی پر زندگی گزار رہا ہے۔۔۔ تو جب پہچان نہیں تھی تو ان پتھروں کو پیالے کے اندر ڈال کر رکھا ہوا تھا اور جب پہچانا تو پھر قدر ہوگئی۔۔۔ اسی طرح انسان کو اگر خدا کی عظمت و بڑائی کی معرفت مل جائے تو خدائی نعمتوں کی قدر دانی بھی نصیب ہو گی اور دل کو محبت و معیت اور یاد الٰہی سے بھرنا بھی آسان ہو گا، پہلے معرفت حاصل کرکے تو دیکھیں۔



















































