ہارون رشید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ وہ بھیس بدل کر شکار کھیلنے کے لیے نکلا، اتفاق سے وہ اپنے قافلہ سے بچھڑ گیا، تھکا ہوا تھا اور اسے پیاس بھی لگی ہوئی تھی، کہیں اسے ایک چھوٹی سی جھونپڑی نظر آئی، وہ وہاں گیا اور کہنے لگا،
جی مجھے پینے کے لیے پانی دے دیں، اس گھر میں ایک نوجوان لڑکی تھی، اس نے اس کے چہرے مہرے سے اندازہ لگایا کہ یہ وقت کا بادشاہ ہے، جب بادشاہ نے پانی مانگا تو اس لڑکی نے درخت سے انار توڑا اور اس کا جوس نچوڑا اور بادشاہ کودینے سے پہلے اس نے وہ شربت (جوس) کپڑے سے چھان لیا تھا کہ کوئی تنکا یا پتہ نہ چلا جائے، اب بادشاہ یہ سب غور سے دیکھ رہا تھا، جب اس نے جوس بادشاہ کو پیش کیاتو تو اس نے پوچھا کہ تم نے یہ جوس چھان کر کیوں دیا؟ وہ کہنے لگی اے امیرالمومنین میں نے ایسا اس لیے کیا تاکہ کوئی تنکا وغیرہ آپ کے منہ میں نہ چلا جائے، بادشاہ یہ جواب سن کر بڑا حیران ہوا کہ اس نے بغیر بتائے سمجھ لیا کہ میں بادشاہ ہوں، وہ اس بات پر اتنا خوش ہوا کہ اس نے گھر آ کر اس لڑکی کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا اور اس لڑکی کو اپنی زندگی کا ساتھی بنا لیا۔۔۔ اب اس لڑکی نے بادشاہ کوپہچان لیا اور اس کی قدر کی جس کے نتیجے میں اس نے فائدہ اٹھایا۔۔۔ اندازہ لگائیے کہ ایک بادشاہ کی معرفت پر ایک خاتون شاہی محل میں جگہ پا سکتی ہے، بادشاہ کی محبوبہ بن سکتی ہے، تو کیا ہم خدا کے پرستاروں کو اگر خدا کی سچی معرفت حاصل ہو جائے تو محبوب خدا نہیں بن سکتے اور خدا کے شاہی محل (جنت) میں جگہ نہیں پا سکتے؟



















































