شیر کا ایک بچہ عام جانوروں کے ساتھ زندگی گزارنے لگا تو اس کی حالت بھی عام جانوروں جیسی ہو گئی، گدھے اور بکری وغیرہ کی طرح وہ شیر بھی رہنے لگا، اس شیر کو ایک بندر نے پہچان لیا کہ یہ تو بادشاہ کا بیٹا ہے، چنانچہ اس نے اسے سمجھایا کہ تم تو جنگل کے بادشاہ ہو اور تم کہاں زندگی گزارتے پھر رہے ہو؟
اس نے جواب دیا کہ میں بادشاہ نہیں ہوں، میں بس ادھر اپنے دوستوں کے ساتھ ٹھیک ہوں، وہ بندر اسے لے کر ایک دریا پر گیا اور اسے کہا کہ نیچے پانی کی طرف جھانک کر دیکھو، جب اس نے پانی میں جھانک کر دیکھا اور اسے اپنی شکل نظرآئی تو اسے اپنا باپ یاد آ گیا، اس نے چھوٹی عمر میں اپنے باپ کو دیکھا تھا اور اب جوان ہو چکا تھا، اب اس کا قد کاٹھ اور وضع قطع بھرپور شیر کی طرح تھا جب اپنی شکل دیکھ کر اسے اپنا باپ یاد آیا تو اس نے شیر والی آواز نکالی، اب اسے احساس ہونے لگا کہ میں کوئی عام جانور نہیں ہوں بلکہ جانوروں کا بادشاہ ہوں، چنانچہ اب اس کے اندر ایک قوت آ گئی اور اس کو دوسروں کے ساتھ لڑنا اور حملہ کرنا بھی آ گیا، لہٰذا جب وہ لوٹ کر واپس آیا تو سب جانوروں نے اس کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا۔۔۔ جب ایک جانور اپنی حقیقت اور اپنی معرفت کے حاصل ہونے پر بادشاہ بن سکتا ہے تو کیا انسان اپنی حقیقت کو پہچان لے اور ذاتِ باری کی معرفت حاصل کر لے تو راہِ سلوک کا بادشاہ نہیں بن سکتا اور سایۂ عرش کا ہم نشیں اور دیدارِ خداوندی کا مستحق نہیں ہو سکتا؟



















































