حضرت حسن بصریؒ اس امت کے بڑے اولیاء میں سے گزرے ہیں ان کے زمانے میں ایک خاتون تھی جس کا نام رابعہ بصریہ ہے، کبھی کبھی یہ ان کے پاس جایا کرتی تھی کچھ مسائل پوچھنے کے لیے بات پوچھنے کے لیے، ایک مرتبہ جب ان کے گھر گئی پتہ چلا کہ وہ دریا کی طرف گئے ہیں،
گرمی کا موسم تھا، بہت زیادہ شدت کی گرمی تھی، اہل خانہ نے بتایا کہ وہ دریا کے کنارے اس لیے گئے ہیں کہ وہاں بیٹھ کر میں اللہ اللہ کروں گا، انہوں نے بات ضروری پوچھنی تھی، یہ بھی دریا کے کنارے کی طرف چل پڑی، بڑھاپے کی عمر تھی، جب دریا کے کنارے پر پہنچی تو کیا دیکھا کہ حسن بصریؒ نے کنارے کے بجائے پانی پر دریا کے اوپر مصلیٰ بچھایا ہوا ہے، اور اللہ رب العزت کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، یہ گویا ان کی ایک کرامت تھی جو اللہ رب العزت نے اس وقت ان پر ظاہر کر دی تھی، یہ ایک طرف بیٹھ کر دیکھتی رہی، جب حسن بصریؒ نماز سے فارغ ہوئے انہوں نے رابعہ بصریہ کو دیکھا تو سلام کیا، رابعہ بصریہ نے اسے کہا: اگر یہ ’’ہوا روی مگسے باشی‘‘ اگر تو ہوا یہ چلتا ہے تو مکھی کے مانند ہے، وبر آب روی خسے باشی، اگر تو پانی پر تیرتا ہے تو تنکے کے مانند ہے، دل بدست شی باشی، اپنے دل کو قابو میں کر لے تاکہ تو کچھ بن جائے۔حسن بصریؒ نے اقرار کیا کہ واقعی مجھ سے غلطی ہوئی مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، دیکھئے اتنے بڑے ایک ولی کو اتنا پیارا مشورہ کس نے دیا ایک عورت نے دیا جو خود ولایت کے مقامات کی معرفت حاصل کر چکی تھی۔



















































