ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر حضرت سید زوار حسین شاہؒ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے جب حضرتؒ سے یہ بات سنی تو انہوں نے کہا: حضرت! میں آپ کو اس سے بھی عجیب بات سناتا ہوں، حضرتؒ نے فرمایا: سناؤ، انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ انگلینڈ میں ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں ٹی وی پر آپ کو ایک کرتب دکھاؤں گا،
چنانچہ اسے ٹی وی پر کرتب دکھانے کی اجازت دے دی گئی، جب وہ کرتب دکھانے سے فارغ ہوا تو اس نے آخر میں کہا کہ پورے ملک میں جو بندہ بھی ٹی وی دیکھ رہا ہے، وہ اپنے ہاتھ میں لوہے کی کوئی چیز پکڑ لے، یہ سن کر کسی نے چمچ پکڑا، کسی نے کانٹا پکڑا، کسی نے چھری وغیرہ پکڑ لی، جیسے ہی اس نے لوہے کی چیز پکڑنے کو کہا تو اس کے بعد چند سیکنڈ کے اندر اندر جس کے ہاتھ میں جو چیز تھی، وہ ٹیڑھی ہو گئی، پورے ملک کے لوگوں نے یہ واقعہ دیکھا، دنیا حیران تھی کہ اس نے ٹی وی اسکرین پر بیٹھ کر یہ کہا مگر اس کی توجہ اتنا کام کر رہی تھی کہ پورے ملک میں جس نے جو چیز اس کے کہنے پر پکڑی تھی وہ ٹیڑھی ہو گئی، پھر لوگوں نے اس پر مقدمہ بھی درج کر دیا کہ آپ نے ہمارا یہ نقصان کیا ہے، اس نے جواب میں کہا کہ میں نے آپ سے صرف یہ کہا تھا کہ پکڑیں، یہ تو نہیں کہا تھا کہ ٹیڑھا کریں۔ اس سے پتہ چلا کہ انسان اپنی قوت ارادی کو مرکوز کرکے بہت سے عجیب و غریب کام کر سکتا ہے، انسان آخر اللہ تعالیٰ کا نائب ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان میں یہ صفات رکھی ہیں لیکن ہمیں ان صفات کو آزمانا نہیں آتا۔۔۔ ہم اپنے اندر پہلے یہ روحانی اورباطنی قوت پیدا تو کریں، پھر دیکھیں کہ کتنے مردہ دل زندہ ہو جاتے ہیں۔



















































