انڈیا میں ایک آدمی نے شو دکھایا، اس نے لوگوں سے کہا تھا کہ میں ٹھیک چھ بجے آ کر آپ کو شو دکھاؤں گا، ٹائم طے تھا، بہت سارے لوگ جمع ہو گئے، چھ بھی بج گئے، بلکہ دس منٹ اوپر ہو گئے مگروہ بندہ نہ آیا، جب کچھ دیر کے بعد وہ آدمی آیا تو اس نے سلام کیا اور کہنے لگا: چونکہ ابھی وقت نہیں ہوا، پندرہ منٹ باقی ہیں، اس لیے میں اب جاتا ہوں اور میں اپنے صحیح وقت پر آؤں گا، لوگوں نے کہا: جی وقت تو ہو گیا ہے، اس نے کہا:
نہیں آپ اپنی گھڑی دیکھ لیں، جب لوگوں نے اپنی گھڑی دیکھیں تو واقعی سب کی گھڑیوں پر پونے چھ بج رہے تھے، جب تک وہ وہاں کھڑا رہا سب کی گھڑیوں کی سوئیاں پونے چھ پر ہی رہیں، اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ ’’بس یہی میرا کرتب تھا، السلام علیکم‘‘۔۔۔ جب انسان ہپناٹزم اور قوت ارادی کے ذریعہ دوسروں پر تصرف کر سکتا ہے تو پھر اللہ والے اپنی باطنی اور روحانی قوت کے ذریعہ راہِ خیر پر لانے کے لیے دلوں پر تصرف کیوں نہیں کر سکتے۔



















































