دنیا کا مشاہدہ ہے، میل کچیل جوڑ کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے، بچپن کی بات ہے، حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی اس وقت دوسری تیسری کلاس میں پرائمری کے طالب علم تھے نے کہا کہ، ہماری گلی سے ایک آدمی کبھی کبھی گزرتا اور آواز لگاتا برتن قلعی کرا لو، برتن قلعی کرا لو، میں اُسے روکتا چچا ذرا رکو، اور گھر آ کر امی سے کہتا امی برتن نکالیں، قلعی کروانی ہے،
بعض دفعہ وہ کہتی نہیں ابھی تو ضرورت نہیں سارے برتن ٹھیک ہیں، تو ہم رونا دھونا شروع کرتے، اصرار کرتے کیونکہ وہ قلعی کرنے کا جو طریقہ کار تھا وہ اچھا لگتا تھا تو ایک دو برتن امی پکڑا دیتی، ہم لے کر جاتے، انکل یہ قلعی کر دو، وہ اپنی بٹھی جلاتا، آگ پر برتن رکھ کر اس کو خوب گرم کرتا، نوشادر یا کوئی دوسری چیز لگا کر اس کو صاف کرتا، پھر وہ نکالتا جس کو دیکھنے کو ہم بیتاب کھڑے ہوتے تھے اور وہ قلعی رینگ کی مانند پتلی سی ہوتی تھی اور وہ ہلکی سی لگا کر کوٹن سے اس کو پھیرتا تو پورابرتن بالکل قلعی ہو کر چمکنے لگتا۔ایک دن میں نے ان سے پوچھا، کہ انکل آپ برتن پر ایسے ہی کیوں نہیں لگا دیتے؟ اس نے کہا آپ بچے ہو، آپ چھوٹے ہو، آپ کو پتہ نہیں، جو برتن تم لاتے ہو بظاہر صاف نظر آتا ہے، مگر ہماری نظر میں صاف نہیں ہوتا، اس پر چکنائی اور میل لگی ہوتی ہے، اس پر اگر ڈائریکٹ قلعی لگا دیں تو قلعی اس پر نہیں چپکے گی، اس لیے پہلے آگ میں گرم کرکے نوشادر سے وہ ساری میل کچیل، چربی، چکنائی ہٹا دیتاہوں، پھر اس کے بعد جب تھوڑی سی قلعی لگاتا ہوں، تو وہ اس کو چمکا دیتی ہے، اس چھوٹی عمر میں تو اس بات کا پتہ نہیں چلا کہ اس کا مقصد کیا تھا؟ آج جب بچپن کے اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ واقعی گناہ انسان کے دل پر میل کچیل جما دیتا ہے، اب ہم چاہیں کہ یہ دل صیقل ہو جائے تو اس کے لیے پہلے گناہوں کے میل کو اتارنا پڑے گا، ورنہ اللہ رب العزت کے ساتھ دل واصل نہیں ہو سکتا۔



















































