ایک بادشاہ نے کسی لڑکی کے ساتھ نکاح کیا، بڑی محبتوں کے ساتھ اس نے اسے محل میں رکھا، مگر لڑکی روز بروز چپ ہوتی گئی، کمزور ہوتی گئی، اس کی صحت گرتی چلی گئی، شکل دیکھ کر پتہ چلتا تھا کہ یہ خوش نہیں ہے، یہ مغموم ہے، یہ اداس ہے، چنانچہ بادشاہ نے بڑے علاج کروائے، کوئی دوائی ٹھیک ہی نہیں بیٹھتی تھی، ایک طبیب تھا جس کو کچھ باطن کی نظر بھی حاصل تھی،
اس نے بادشاہ سے کہا بادشاہ سلامت! میں اس کا علاج کرتا ہوں اگر آپ مجھے اجازت دیں اور اس کو آپ اس کی باندی کے ساتھ میرے پاس بھیج دیا کریں، بادشاہ نے کہا، بہت اچھا، بادشاہ نے اس کو اس طبیب کے پاس بھیج دیا، طبیب نے اس لڑکی کے سارے کوائف جمع کر لیے، جدھر سے شادی ہو کر آئی تھی اور جتنے رشتے اس کے آئے تھے اور جتنے رشتے دار اس کے امیدوار تھے، اس نے وہ ساری معلومات اکٹھی کر لیں، اس نے اس لڑکی کو بٹھایا اور چیک اپ کیا، اور دیکھا کہ کوئی بدنی مرض نہیں ہے، یہ کوئی اندر کا روگ ہے، اندر کا مرض ہے، چنانچہ اس نے اس کی نبض پر ہاتھ رکھا اور اس سے باتیں شروع کر دیں اور باتیں کرتے کرتے اس نے ان سب کے نام لینا شروع کر دیے جن کے رشتے آئے تھے، تو جب اس نے اس جیولر کا نام لیا جو اس کا کزن بھی تھا اور جس کے ساتھ اس لڑکی کو چھپی محبت تھی تو اس کی نبض تیز ہو گئی، لڑکی دراصل اس کزن سے شادی کرنا چاہتی تھی مگر ماں باپ نے وقت کے بادشاہ سے شادی کر دی، اب لڑکی دل میں تو اسے بسا رہی ہے، لیکن گھر بادشاہ کا بسا رہی ہے، اب جب طبیب نے دیکھا کہ نبض تیز ہو گئی تو طبیب نے اس سے پوچھ لیا کہ اب بتاؤ بھئی! آپ کے دل کی بات یہی ہے ناکہ آپ کی پسند یہ تھی کہ اس کے ساتھ شادی ہوتی اور ہو بادشاہ کے ساتھ گئی، تو اسے اپنا راز کھولنا پڑا۔۔۔
اندازہ لگائیے کہ جب محبوب کا نام آتے ہی دل تڑپا، نفس پھڑکا تو ہم کیسے ہیں کہ ہمارے اللہ کا نام آئے اور دل نہ تڑپے، کوشش تو کریں کہ اللہ کی محبت اس قدر آ جائے کہ اس شعر کا مصداق بن جائے:اللہ اللہ کیا ہی پیارا نام ہے۔۔عاشقوں کا مینا اور جام ہے۔نوٹ: جالینوس کی طرف اسی قسم کا واقعہ منسوب ہے۔



















































