اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہر دل میں رب رب کی آواز

datetime 11  اپریل‬‮  2017 |

ایک مرتبہ مجھے امریکہ میں اپنے ایک دوست کے پاس جانا پڑا، وہ دل کے بڑے اسپیشلسٹ ڈاکٹر تھے، مجھے وہاں چند دن ٹھہرنا تھا، مجھے کہنے لگے، حضرت! میں آپ کو اپنا دفتر دکھانے کے لیے لے جاؤں گا اور وہاں دعا بھی کراؤں گا، میں نے کہا، بہت اچھا، چنانچہ ایک دن وہ مجھے اپنے دفتر میں لے گئے، انہوں نے مجھے کہا کہ میں یہاں دل کا بڑا اسپیشلسٹ ہوں اور پھر کہنے لگے کہ میں مختلف مشینوں کے ذریعہ دل کے کام کو چیک کرتا ہوں کہ یہ ٹھیک کام کر رہا ہے یا نہیں،

ان مشینوں میں سے ایک مشین کا نام ایکو کارڈیو۔۔۔ تھا، میں نے پوچھا، اس مشین کا کیا کام ہے؟ وہ کہنے لگے کہ اس کے ذریعہ دل میں خون کے آنے اور جانے کی پوری تصویر سکرین پر آ جاتی ہے اور باقاعدہ اس کی آواز بھی سنائی دیتی ہے، وہ مجھے کہنے لگے، حضرت! اب میں آپ کی دل کی کیفیت چیک کرتا ہوں، ساتھ اور بھی لوگ تھے، وہ کہنے لگے، حضرت! اچھا موقع ہے، جب انسان پچاس سال سے اوپر ہو جائے تو اسے ٹیسٹ کرواتے رہنا چاہیے، چنانچہ میں نے کہا، ٹھیک ہے چیک کریں، اب انہوں نے مشین کے ذریعہ دیکھنا شروع کر دیا، وہ اس مشین کے پوائنٹس بدن کے اوپر ہی لگاتے ہیں اور اسکرین پر پوری تصویر آ جاتی ہے، دل کیسے سکڑ رہا ہوتا ہے، کیسے پھیل رہا ہوتا ہے، خون کو کیسے لے رہا ہوتا ہے، کیسے دے رہا ہوتا ہے، یہ پوری رنگدار تصویر آ جاتی ہے، جب انہوں نے مجھے وہ تصویر دکھائی تو پوچھنے لگے، حضرت! کیا میں آپ کو آپ کے دل کے پمپ کی پوری آواز بھی سناؤں، میں نے کہا، سنائیں۔ چنانچہ اب انہوں نے ایک بٹن کو آن کر دیا تو ہمیں دل کی آواز سنائی دینے لگی، ساتھ ساتھ یہ بھی نظر آ رہا تھا کہ دل باقاعدہ پیچھے سے خون لے رہا ہے اور آگے خون دے رہا ہے، وہ کہنے لگے کہ سائنس دانوں نے کتابوں میں لکھا ہے کہ انسان کا دل لب ڈب کرتا ہے، یعنی جب خون اپنے اندر لیتا ہے تو اس وقت لب کی آواز پیدا ہوتی ہے اور جب خون آگے سپلائی کرتا ہے تو اس وقت ڈب کی آواز پیدا ہوتی ہے،

جب ہم نے یہ بات کی تو میں نے کہا، ڈاکٹر صاحب! ذرا ٹھہرنا، وہ کہنے لگے، جی کیا ہوا؟ میں نے کہا ذرا یہ آواز غور سے سنیں، مجھے لگتا ہے کہ سائنس دانوں نے ہمیں دھوکا دیا ہے، یہ آواز لب ڈب کی تو نہیں ہے، وہ کہنے لگے، تو پھر یہ کیسی آواز ہے؟ میں نے کہا، یہ آواز تو ۔۔۔رب رب۔۔۔ رب رب کی ہے۔جب انہوں نے بھی اس آواز پر غور کیا تو کہنے لگے، حضرت! واقعی یہ رب کا لفظ اس آواز کے بالکل قریب ہے،

اس وقت جتنے آدمی وہاں موجود تھے ان سب نے اس آواز کو غور سے سنا اور مجھے کہنے لگے، یہ بالکل ٹھیک ہے، یہ لب ڈب کی آواز نہیں ہے بلکہ یہ تو واضح طور پر رب رب۔۔۔ رب رب۔۔۔ کی آواز ہے میں نے کہا، ڈاکٹر صاحب! اگر یہ بات ہے تو آج مجھے ایک بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ قرآن مجید میں آیا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اللہ کو یاد کرتی ہے،

کبھی کبھی میرے ذہن میں یہ سوال آتا تھا کہ دہریہ اللہ تعالیٰ کو کیسے یاد کرتا ہے، آج اس بات کا پتہ چلا کہ دہریہ عقلی طور پر اللہ تعالیٰ کے وجود کو مانے یا نہ مانے، اس کا دل ہر وقت اس کا نام لیتا رہتا ہے، وہ بھی رب رب، رب رب۔۔۔ ہی کرتا رہتا ہے۔۔۔ جب غیر اختیاری طور پر دل پیارے رب کو پکارتا ہو تو پھر ہم کیسے محبت کے دعویدار کہ اپنے اختیار سے اللہ اللہ نہ پکاریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…