حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ وقت کے خلیفہ تھے۔ ایک مرتبہ آپ اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنی بیٹی کو آواز دی کہ بیٹی! میرے لیے پانی کا پیالہ لاؤ۔ کافی دیر گزر گئی مگر بیٹی نہ آئی۔ آپ نے پھر سختی سے بلایا۔ بیوی نے آ کر پوچھا کیا ہوا؟ فرمایا، میں نے بیٹی سے کہا کہ پانی کا پیالہ لا، اتنی دیر ہو گئی ہے وہ ابھی تک پانی کا پیالہ لے کر نہیںآئی۔ کتنی نافرمان بنتی چلی جا رہی ہے۔ بیوی فاطمہ نے کہا، آپ کی بیٹی نافرمان نہیں، اس نے
جو کپڑا پہنا ہوا تھا (شلوار) وہ پھٹ گیا تھا، وہ دوسرے کمرے میں اس شلوار کو اتار کر بیٹھی سی رہی ہے۔ اس کو سینے اور پہنے بغیر وہ کیسے آ سکتی ہے۔ وقت کا خلیفہ ہو اور اس کی بیٹی کے پاس پہننے کے لیے صرف ایک لباس ہو۔ یہ ان حکمرانوں کے امین ہونے کی دلیل ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ وہ خزانوں کی کنجیوں کے مالک تھے مگر ان کا غلط استعمال نہیں کیاکرتے تھے۔ شاہی ملنے کے باوجود انہوں نے فقیرانہ زندگی اختیار کی ہوئی تھی۔



















































