ہمارے اکابرین پر ایسے ایسے واقعات پیش آئے کہ انہیں وقت کے بادشاہوں نے بڑی بڑی جاگیریں پیش کیں مگر انہوں نے اپنی ذات کے لیے کبھی قبول نہیں کیں۔ حضرت عمر ابن خطابؓ کے پوتے حضرت سالمؓ ایک مرتبہ حرم مکہ میں تشریف لائے۔
مطاف میں آپؓ کی ملاقات وقت کے بادشاہ ہشام بن عبدالملک سے ہوئی۔ ہشام نے سلام کے بعد عرض کیا، حضرت! کوئی ضرورت ہو تو حکم فرمائیں تاکہ میں آپ کی کوئی خدمت کر سکوں۔ آپ نے فرمایا، ہشام مجھے بیت اللہ شریف کے سامنے کھڑے ہو کر غیر اللہ سے حاجت بیان کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ کیوں کہ ادب الٰہی کا تقاضا ہے کہ یہاں فقط اسی کے سامنے ہاتھ پھیلایا جائے۔ ہشام لاجواب ہوگیا۔ قدرتاً جب آپ حرم شریف سے باہر نکلے تو ہشام بھی عین اسی وقت باہر نکلا۔ آپؓ کو دیکھ کر پھر وہ قریب آیا اور کہنے لگا، حضرت! اب فرمائیے کہ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں۔ آپؓ نے فرمایا، ہشام، بتاؤ میں تم سے کیا مانگوں۔ دین یا دنیا؟ ہشام جانتا تھا کہ دین کے میدان میں تو آپ کا شمار وقت کی اہم ترین بزرگ ہستیوں میں ہوتا ہے۔ لہٰذا کہنے لگا۔ حضرت آپ مجھ سے دنیا مانگیں۔ آپؓ نے فوراً جواب دیا کہ دنیا تو میں نے کبھی دنیا کے بنانے والے سے بھی نہیں مانگی۔ بھلا تم سے کہاں مانگوں گا۔ یہ سنتے ہی ہشام کا چہرہ لٹک گیا اور وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔



















































