حضرت عمر فاروقؓ کی گزران بہت مشکل تھی۔ حضرت علیؓ اور چند دوسرے صحابہ کرام بھی تھے۔ انہوں نے مل کر مشورہ کیا کہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کو بیت المال سے بہت کم مشاہرہ ملتا ہے۔ اسے بڑھانا چاہیے۔ سب نے مشورہ کر لیا کہ اتنا بڑھانا چاہیے لیکن سوال یہ پیدا ہوا کہ امیرالمومنین کو کون بتائے۔ اس کے لیے کوئی تیارنہ ہوا۔ مشورہ میں طے پایا کہ ہم ام المومنین حضرت حفصہؓ کو اس مشورہ سے آگاہ کر دیتے ہیں
اور وہ اپنے والد محترم کو یہ بات بتا دیں گی۔ چنانچہ انہوں نے سیدہ حفصہؓ کو اپنا مشورہ بتا دیا۔ یہ بھی کہا کہ ہمارے ناموں کا علم امیر المومنین کو نہ ہو۔ ام المومنین سیدہ حفصہؓ نے ایک مرتبہ موقع پا کر امیرالمومنین عمر فاروقؓ کو بتایا کہ ابا جان! کچھ حضرات نے یہ سوچا ہے کہ آپ کا مشاہرہ کچھ بڑھا دینا چاہیے۔ کیوں کہ آپ کا وقت تنگی میں گزر رہا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے پوچھا، یہ کس کس نے مشورہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا میں ان کا نام نہیں بتاؤں گی۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا، حفصہؓ تو مجھے بتا کہ تیرے گھر میں نبی کریمؐ کی گزران کیسی تھی؟ سیدہ حفصہؓ نے جواب میں کہا کہ میرے آقاؐ کے پاس پہننے کے لیے ایک ہی جوڑا تھا۔ دوسرا جوڑا گیرو رنگ کا تھا جو کبھی کسی لشکر کے آنے پر یا جمعہ کے دن پہنا کرتے تھے۔ کھجور کی چھال کا ایک تکیہ تھا، ایک کمبل تھا جسے سردیوں آدھا اوپر اور آدھا نیچے لے لیتے تھے اور گرمیوں میں چار تہہ کرکے نیچے بچھا لیتے تھے۔ میرے گھر میں کئی دنوں تک چولہے میں آگ بھی نہیں جلتی تھی۔ میں نے ایک مرتبہ گھی کے ڈبے کی تلچھٹ سے روٹی کو چپڑ دیا تو نبی کریمؐ نے خود بھی اسے شوق سے کھایا اور دوسروں کو بھی شوق سے کھلایا۔یہ سن کر حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا، حفصہؓ! نبی کریمؐ نے ایک راستہ پر زندگی گزاری۔ ان کے بعد امیرالمومنین صدیق اکبرؓ نے بھی اسی راستہ پر زندگی گزاری
اور وہ اپنے محبوبؐ سے مل گئے ہیں۔ اگر میں بھی اسی راستہ پر چلوں گا تو پھر میں ان سے مل سکوں گا۔ اگر میرا راستہ بدل گیا تو منزل بھی بدل جائے گی، سبحان اللہ۔ ان حضرات کو یہ حقیقت سمجھ میں آ چکی تھی کہ یہ دنیاوی زندگی ختم ہونے والی ہے اس لیے وہ ضرورت کے بقدر دنیاوی نعمتیں حاصل کرتے تھے اور لذتوں کو آخرت پر چھوڑ دیتے تھے۔



















































