ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ جنگل میں بیٹھے تھے۔ ایک چرواہا وہاں آ پہنچا۔ آپ نے اس سے فرمایا۔ آئو ہمارے ساتھ کھانا کھائو۔ وہ کہنے لگا، میں روزہ دار ہوں۔ آپ حیران ہوئے کہ بکریوں کو چرانے والا یہ نوجوان روزے سے ہے۔ آپ کے دل میں یہ خیال آیا کہ اسے آزماتے ہیں۔ آپؓ نے اسے فرمایا کہ ایک بکری ہمارے ہاتھ بیچ دو، اس کو ذبح کریں گے اور
گوشت بھونیں گے۔ ہم بھی کھا لیں گے اور تم بھی شامل کو کھا لینا۔ وہ کہنے لگا، جناب! یہ بکریاں میری نہیں ہیں، یہ تو میرے مالک کی ہیں۔ آپ نے فرمایا ’’تمہارا مالک یہاں تو نہیں ہے۔ کہہ دینا کہ بھیڑیا کھا گیا ہے۔ وہ نوجوان فوراً آپ کو کہنے لگا کہ اگر میرا مالک اس وقت موجود نہیں تو اللہ کہاں ہے؟ یعنی اگر میرا مالک موجود نہیں تو اس مالک کا مالک تو موجود ہے۔



















































