اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

اشارۂ نبویؐ پر ہزار درختوں کا ایثار

datetime 8  اپریل‬‮  2017 |

وہ صحابہ کرامؓ جو نئے نئے مسلمان ہوتے تھے۔ نبی کریمؐ ان کی تالیف قلب کے لیے ان سے بہت زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ نبی کریمؐ تشریف فرما تھے۔ ایک آدمی جو نیا نیا مسلمان ہوا تھا، آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ کہنے لگا۔ اے اللہ کے نبیؐ میرا ایک باغ ہے اور میرے ساتھ ایک اور مسلمان کا باغ ہے۔ وہ مسلمان بوڑھا ہو چکا ہے۔ اگر میرے درختوں کی لائن سیدھی ہو تو اس میں اس کے دس درخت آ جاتے ہیں۔

اس طرح میں حفاظت کے لیے دیوار بھی بنا سکتا ہوں۔ میں نے اس بوڑھے مسلمان سے کہا ہے کہ یہ دس درخت مجھے دو۔ لیکن وہ بیچنے پرآمادہ نہیں ہے۔ لہٰذا آپ مہربانی فرما کر یہ درخت دلوا دیں۔ نبی کریمؐ نے اس بوڑھے صحابی کو طلب فرمایا۔ وہ صحابیؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ اچھا، بوڑھوں کی سمجھ بعض اوقات اپنی ہی ہوتی ہے کیونکہ عمر ہی ایسی ہی ہوتی ہے۔ بوڑھا آدمی تو بتا بھی نہیں سکتا کہ اس کو کیا کیا تکلیف ہے۔ خیر آپؐ نے اس صحابیؓ کو بلایا اور فرمایا کہ آپ کا یہ بھائی چاہتا ہے کہ اگر آپ اپنے دس درخت ان کو دے دیں تو ان کی لائن سیدھی ہو سکتی ہے۔ وہ بوڑھے صحابیؓ آگے پوچھتے ہیں۔ اے اللہ کے نبیؐ یہ آپ کا حکم ہے یا آپ کا مشورہ ہے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا، یہ میرا حکم نہیں مشورہ ہے۔ تمہیں فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔ وہ جواب میں کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبیؐ میں نہیں دینا چاہتا۔ جب اس بوڑھے صحابی نے کہا میں نہیں دینا چاہتا تو نیا مسلمان کچھ مایوس سا ہوا۔ اس کے بعد نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم اسے نہیں دینا چاہتے تو میں انہیں خریدنا چاہتا ہوں، لہٰذا مجھے دے دو، انہوں نے پھرپوچھا اے اللہ کے نبیؐ یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا، مشورہ ہے، وہ کہنے لگے میں نہیں دیتا۔ یہ کہہ کر وہ صحابیؓ اپنے گھر کے لیے روانہ ہونے لگے تو آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ سنو! تمہیں جنت کے درخت اس کے بدلے میں ملیں گے اور میں جنت میں بہت بڑا باغ دلوانے کی ضمانت دیتا ہوں اور تمہیں جنت میں گھر بھی ملے گا۔ لیکن وہ کہنے لگا

اے اللہ کے نبیؐ، اب مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ یہ بات ایک صحابیؓ نے سنی جن کا ایک ہزار درختوں کا باغ تھا۔ وہ نبی کریمؐ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا، اے اللہ کے نبیؐ آپ نے جو خوش خبری اے دی ہے کہ اگر تم یہ دس درخت دے دو تو تمہیں جنت میں باغ بھی ملے گا اور گھر بھی ملے گا۔ کیا یہ وعدہ اس کے ساتھ تھا یا میرے ساتھ بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: اگر تم خرید کر دے دو تو یہ وعدہ تیرے ساتھ بھی ہے۔ وہ کہنے لگا۔ بہت اچھا… وہ صحابیؓ وہاں سے چلے اور کچھ دیر کے بعد بوڑھے میاں کے گھر پہنچ گئے۔ انہوں نے بوڑھے میاں کو سلام کیا اور اس سے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں کون ہوں۔ وہ کہنے لگے نہیں آپ ہی بتا دیں۔ کہنے لگے کہ قبلہ فلاں امیر آدمی ہوں۔ جس کا ایک ہزار درختوں کا باغ ہے۔ بوڑھے میاں کہنے لگے۔ ہاں اس کی تو میں نے بہت شہرت سنی ہے۔ اچھا آپ وہی ہیں۔ آپ کے باغ میں تو بڑی اعلیٰ کھجوریں ہیں اور بہت زیادہ پھل دیتی ہیں۔ وہ کہنے لگے۔ اچھا آپ نے بھی میرے باغ کا تذکرہ سنا ہوا ہے۔ اب میں آپ کے ساتھ ایک سودا کرنے آیا ہوں۔ بوڑھے میاں کہنے لگے وہ کیا؟ انہوں نے کہا آپ کے جو یہ دس درخت ہیں یہ مجھے دے دیں اور میرا ہزار درختوں والا باغ آپ لے لیں۔ یہ سن کر اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ وہ بوڑھے میاں تھے اور انہی پر ان کی گزران تھی اس لیے وہ چھوڑنا نہیں چاہتے تھے لیکن جب انہوں نے یہ سنا کہ اس کے بدلے میں ایک ہزار درختوں کا باغ ملے گا تو وہ کہنے لگے، ٹھیک ہے میں تیرے ساتھ سودا کر لینا چاہتا ہوں۔

چنانچہ طے پا گیا کہ بوڑھے میاں نے ہزار درختوں کے بدلے دس درخت بیچ دیے ہیں۔ وہ صحابیؓ یہ سودا کرکے نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگے۔ اے اللہ کے نبیؐ مجھے وہ درخت مل گئے ہیں اور اب میں وہ درخت آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا، میں ضمانت دیتا ہوں کہ اس کے بدلے تمہیں جنت میں مکان بھی ملے گا اور باغ بھی ملے گا۔ نبی کریمؐ کی مبارک زبان سے جنت کی ضمانت کی خوش خبری سن کر وہ ہزار درختوں کے باغ کے کنارے پر واپس آئے۔ باغ کے اندر داخل نہ ہوئے، وہیں کھڑے ہو کر اپنی بیوی کو آواز دی اور کہا، اے فلاں کی امی! اے فلاں کی امی! بیوی نے کہا، کیا بات ہے؟ آپ اندر کیوں نہیں آتے۔ وہ کہنے لگے میں اس باغ کا سودا کر چکا ہوں۔ اب یہ باغ میرا نہیں ہے بلکہ میں نے اسے جنت کے باغ کے بدلے میں اللہ کے ہاں فروخت کر دیا ہے۔ سامان اور بچوں سمیت باہر آ جا۔ میں ادھر ہی انتظار کروں گا۔ بیوی نے جب یہ سنا تو کہنے لگیں، میں تجھ پر قربان ہو جائوں تو نے زندگی میں پہلی دفعہ اچھا سودا کرکے میرا دل خوش کر دیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنا سامان اور بچوں کو لے کر باغ سے باہر آ گئی اور انہوں نے وہ باغ اللہ کے راستہ میں صدقہ کر دیا۔ سبحان اللہ جن کا مال ایسا ہو کہ اللہ کے لیے آخرت کمانے کے لیے وہ اسے لگا رہے ہوں تو وہ مال تو ان کے لیے بہترین سواری ہے اور اگر مال لذت دنیا کی خاطر ہو تو پھر وہ نقصان دہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…