حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی بتاتے ہیں ایک حکیم انصاری صاحب تھے وہ وفات پا چکے ہیں، ہم سکول جایا کرتے تھے تو راستے میں ان کی دکان آتی تھی، اس وقت ان کے سفید بال تھے، ان کا تعلق بھی مسکین پور شریف میں سلسلہ نقشبندیہ سے ہی تھا، جب ہمارا بھی اس سلسلہ کے ساتھ غلامی کا تعلق ہوا تو ہم بھی ان سے دعائیں لینے کے لیے عقیدت و احترام کے ساتھ ان کے پاس جاتے تھے۔
انہوں نے ایک واقعہ سنایا اور فرمایا کہ میں اس واقعہ کا چشم دید گواہ ہوں، واقعہ یوں ہے کہ اس شہر سے کچھ فاصلے پر ایک گائوں میں ایک صاحب کی اپنی بیوی کے ساتھ کچھ ان بن ہو گئی، ابھی جھگڑا ختم نہیں ہوا تھا کہ اسی اثناء میں ان کا مہمان آ گیا، خاوند نے اسے بیٹھک میں بٹھا دیا اور بیوی سے کہا کہ فلاں رشتہ دار مہمان آیا ہے اس کے لیے کھانا بنائو، وہ غصے میں تھی، کہنے لگی تمہارے لیے کھانا ہے نہ تمہارے مہمان کے لیے وہ بڑا پریشان ہوا کہ لڑائی تو ہماری اپنی ہے، اگر رشتہ دار کو پتہ چل گیا تو خوامخواہ کی باتیں ہوںگی۔ لہٰذا خاموشی سے آ کر مہمان کے پاس بیٹھ گیا۔ اتنے میں اسے خیال آیا کہ چلو بیوی اگر روٹی نہیں پکاتی تو سامنے والے ہمارے ہمسائے بہت اچھے ہیں، خاندان والی بات ہے، میں انہیں ایک مہمان کا کھانا پکانے کے لیے کہہ دیتا ہوں، چنانچہ وہ ان کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی کی طبیعت خراب ہے (اب یہ کیسے کہتا کہ نیت خراب ہے) لہٰذا آپ ہمارے مہمان کے لیے کھانا بنا دیجئے، انہوں نے کہا، بہت اچھا، جتنے آدمیوں کا کہیں کھانا بنا دیتے ہیں، وہ مطمئن ہو کر مہمان کے پاس آ کر بیٹھ گیا کہ مہمان کو کم از کم کھانا تو مل جائے گا جس سے عزت بھی بچ جائے گی۔ تھوڑی دیر کے بعد مہمان نے کہا کہ ذرا ٹھنڈا پانی تو لا دیجئے، وہ اٹھا کہ گھڑے کا ٹھنڈا پانی لاتا ہوں، اندر گیا تو دیکھا کہ بیوی صاحبہ تو زار و قطار رو رہی تھی، وہ بڑا حیران ہوا کہ یہ شیرنی اور اس کے آنسو کہنے لگا، کیا بات ہے؟
اس نے پہلے سے بھی زیادہ رونا شروع کر دیا، کہنے لگی، بس مجھے معاف کر دیں، وہ بھی سمجھ گیا کہ کوئی وجہ ضرور بنی ہے، اس بے چارے نے دل میں سوچا ہو گا کہ میرے بھی نصیب جاگ گئے ہیں، کہنے لگا کہ بتائو تو سہی کیوں رو رہی ہو؟ اس نے کہا کہ پہلے آپ مجھے معاف کر دیں پھر میں آپ کو بات سنائوں گی، خیر اس نے کہہ دیا کہ جو لڑائی جھگڑا ہوا ہے میں نے وہ دل سے نکال دیا ہے اور آپ کو معاف کر دیا ہے، کہنے لگی کہ جب آپ نے آ کر مہمان کے بارے میں بتایا اور میں نے کہہ دیا کہ نہ تمہارے لیے کچھ پکے گا اور نہ مہمان کے لیے، چلو چھٹی کرو، تو آپ چلے گئے مگر میں نے دل میں سوچا کہ لڑائی تو میری اور آپ کی ہے اور یہ مہمان رشتہ دار ہے، ہمیں اس کے سامنے تو یہ پول نہیں کھولنا چاہیے، چنانچہ میں اٹھی کہ کھانا بناتی ہوں، جب میں کچن (باورچی خانہ) میں گئی تو میں نے دیکھا کہ جس بوری میں ہمارا آٹا پڑا ہوتا ہے، ایک سفید ریش آدمی اس بوری میں سے کچھ آٹا نکال رہا ہے، میں یہ منظر دیکھ کر سہم گئی، وہ مجھے کہنے لگا، اے خاتون، پریشان نہ ہو یہ تمہارے مہمان کا حصہ تھا جو تمہارے آٹے میں شامل تھا۔ اب چونکہ یہ ہمسائے کے گھر میں پکنا ہے اس لیے میں وہی آٹا لینے کے لیے آیا ہوں جی ہاں! مہمان بعد میں آتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اس کا رزق پہلے بھیج دیتے ہیں۔



















































