اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

بسیار خوری کے واقعات

datetime 8  اپریل‬‮  2017 |

1974 میں مفتی محمودؒ نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جیل بھرو تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے مرزائیوں کو کافر قرار دیا تھا۔ لوگ خود گرفتاریاں پیش کرتے تھے، مسجدوں میں بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث اور شیعہ حضرات اکٹھے ہو جاتے تھے اور سب علماء ختم نبوت کے عنوان پر تقریریں کرتے تھے، تقریریں کرنے کے بعد پندرہ بیس نوجوان جو گرفتاریاں پیش کرنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے،

وہ گلے میں پھولوں کے ہار ڈال لیتے، جلوس نکالا جاتا اور وہ نوجوان جلوس کے آگے آگے ہوتے اور خوب نعرے لگتے تھے اور پولیس اسی جلوس کے آگے آگے چل رہی ہوتی تھی۔ جہاں جلوس ختم ہوتا وہاں پولیس ہار پہننے والے لوگوں کو گاڑی میںبٹھا کر جیل لے جاتی تھی اور باقی لوگ گھروں کو چلے جاتے تھے، یہ روز کا معمول تھا۔ یہ لوگ اخلاقی مجرم تو تھے نہیں، یہ تو شرفاء تھے۔ ان میں جہاں علماء، حفاظ اور قرأ حضرات ہوتے تھے ۔ وہاں دنیا کے پڑھے لکھے نوجوان بھی ختم نبوت کے جذبے سے سرشار گرفتاریاں پیش کرتے تھے۔ یہ بات پولیس بھی جانتی تھی اس لیے وہ ان کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرتی تھی، وہ ان کو گاڑیوں میں بٹھا کر لی جاتی اور ان کو جیل میں لے جا کر چھوڑ دیتی تھی۔ بس فرق اتنا تھا کہ وہ باہر کی بجائے جیل کے گیٹ کے اندر ہوتے تھے۔ جیل کے اندر مسجد بنی ہوئی تھی، وہ مسجد میں نماز بھی پڑھتے اور ادھر ادھر گھومتے پھرتے بھی تھے۔ اسی دوران حضرت مرشد عالمؒ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا عبدالرحمان قاسمیؒ کے دل میں خیال آیا کہ میں بھی گرفتاری پیش کروں۔ حضرت صاحبزادہ صاحب بہت ہی دلیر اور جی دار بندے تھے۔ اللہ ایسا نیک بیٹا ہر ایک کو دے۔ ایک دن حضرت نے بھی گرفتاری پیش کر دی۔ پولیس نے ان کو جیل میں پہنچا دیا۔ گرفتاریاں پیش کرنے والے جو نمایاں اورخاص بندے ہوتے تھے ان کو پولیس اسی شہر میں نہیں رکھتی تھی بلکہ انہیں کسی دوسرے شہر میں بھیج دیتی تھی،

چنانچہ پولیس نے انہیں چکوال جیل میں رکھنے کی بجائے جہلم بھیج دیا۔ اس وقت وہ ضلع کا صدر مقام تھا۔ اللہ تعالیٰ کی شان کہ راولپنڈی سے ایک بزرگ حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ بھی گرفتار ہو کر جہلم جیل میں آئے ہوئے تھے۔ وہ شیخ القرآن کے نام سے مشہور تھے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے سوچا کہ مولانا صاحب عالم ہیں اور ان کے ہزاروں شاگرد ہیں اور صاحبزادہ صاحب پیر کے بیٹے ہیں اور ان کے بھی ہزاروں مرید ہیں، اس لیے ان دونوں کو ایک ہی کمرے میں رکھنا چاہیے، چنانچہ اس نے ان دونوں حضرات کے لیے ایک کمرہ مخصوص کر دیا۔ دن میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ان کی ملاقات کے لیے روزانہ پہنچے ہوتے تھے۔ مزے کی بات یہ کہ جو بھی ملاقات کے لیے آتا تو کوئی مٹھائی کا ڈبہ لاتا، کوئی بسکٹ لاتا اور کوئی کھانے کی کوئی اور چیز لاتا۔ ان دونوں کے پاس کھانے پینے کی چیزوں کا ڈھیر لگ جاتا تھا۔ انہوں نے پروگرام بنایا کہ یہاں اتنے لوگ آئے ہوئے ہیں، اگر ہم روزانہ چائے بنا لیا کریں اور اس مٹھائی اور بسکٹ وغیرہ سے ان کو ناشتہ کروا دیا کریں تو روز بروز نکلتا بھی رہے گا اور مہمان نوازی بھی ہوتی رہے گی۔ چنانچہ یہ روزانہ کا معمول بن گیا۔ حضرت قاسم صاحبؒ نے فرمایا کہ ایک دن ہم آ کر بیٹھے تو بات چیت کی کہ ہم نے کل کے لیے فلاں بندے کو بھی دعوت دی ہے اور فلاں کو بھی، چکوال کا ایک آدمی تھا۔ اس کا نام مولا بخش تھا۔ وہ بھی ختم نبوت کے شوق میں جیل آیا ہوا تھا، مولانا غلام اللہ خان نے فرمایا کہ میں نے مولا بخش کو بھی دعوت دی ہے،

حضرت قاسمیؒ نے فرمایا کہ جب میں نے سنا کہ مولا بخش کو بھی دعوت دے دی ہے تو میں بہت ہی پریشان ہوا۔ مولانا صاحب نے فرمایا، تجھے کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا، کیا آپ نے واقعی مولا بخش کو دعوت دی ہے۔ فرمایا کہ ہاں، میں نے اس کو بھی دعوت دے دی ہے، میں نے کہا، پھرتو دوسروں کے لیے کھانا کم پڑ جائے گا۔ انہوں نے فرمایا: ہم فجر کی نماز پڑھ کر پہلے مولا بخش کو بلا لیں گے اور سب کچھ اس کے سامنے رکھ دیں گے۔ وہ جتنا چاہے گا کھا لے گا اور جو بچے گا، اس کے حساب سے اور مہمانوں کو بلا لیں۔ میں نے کہا ہاں یہ تجویز ٹھیک ہے۔ حضرت قاسمی صاحب فرماتے ہیں کہ جب میں نے حساب لگایا تو میرے پاس دس کلو مٹھائی پڑی تھی۔ میں نے دل میں سوچا کہ کوئی ایک پائو مٹھائی بھی مشکل سے کھائی جاتی ہے، فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس فوجیوں والے بڑے بڑے مگ تھے جن میں تین کپ چائے آ سکتی تھی۔ میں نے پانی کے چالیس مگ ڈالے اور اوپر سے دودھ ڈالا اور چائے بنائی، اندازہ تھا کہ ہر آدمی ایک مگ چائے پئے گا اور ایک پائو مٹھائی کھائے گا، فرماتے ہیں کہ میں نے تہجد کے بعد انتظام کر دیا تھا اور اس کے بعد نماز پڑھنے چلاگیا۔ نماز فجر کے بعد درس قرآن ہوا اور درس قرآن کے بعد مولا بخش آ گیا۔ ہم نے اس کو دستر خوان پر بٹھایا۔ کہتے ہیںکہ ہم اس کے سامنے مٹھائی کا ایک ایک ڈبہ کھول کر دستر خوان پر رکھتے رہے اور فوجیوں والا مگ بھی چائے سے بھر بھر کر دیتے رہے۔

وہ باتیں بھی کرتا رہا اور ادھر سے مٹھائی بھی کھاتا رہا اور چائے بھی پیتا رہا۔ حضرت قاسمی صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھو کہ اللہ کے اس بندے نے دس کلو مٹھائی کھا لی اور چالیس مگ چائے پی۔
جب اس نے سب کچھ کھا پی لیا تو پھر اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ وہ ادھر ادھر اس لیے دیکھ رہا تھا کہ سب کچھ خیر خیریت سے سمٹ گیا ہے یا نہیں۔ جب اس کو یقین ہو گیا کہ یہاں سب کچھ سمٹ گیا ہے تو وہ مولانا صاحب سے کہنے لگا، اچھا مولانا! اب آپ مجھے اجازت دیجئے میں اب یہاںسے جاتا ہوں، حضرت نے فرمایا۔ بھئی! آپ بیٹھیں اور ہمارے ساتھ باتیں کریں ۔ وہ کہنے لگا، نہیں حضرت! اب آپ اجازت دیں جب اس نے واپسی کا اصرار کیا تو مولانا غلام اللہ خان صاحب سمجھے کہ اب اس کو پیٹ میں مروڑ اٹھ رہا ہے اس لیے اب یہ بھاگنا چاہتا ہے، چنانچہ مولانا صاحب نے اسے کہا، یار تمہیں کیا جلدی ہے؟ اتنا جلدی کیوں جانا چاہتے ہو؟ وہ کہنے لگا۔ ’’مولانا اصل وجہ یہ ہے کہ میرا ناشتہ چوہدری ظہور الٰہی کی طرف ہے‘‘ ایک دفعہ وہ ہمارے حضرت مرشد عالمؒ کے سامنے آیا تو حضرت نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا ’’او مولا بخشا! روٹی تیں نئیں پیا کھاندا روٹی تیں پئی کھاندی اے‘‘ (اے مولا بخش تو روٹی نہیں کھا رہا بلکہ روٹی تجھے کھا رہی ہے)۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…