ہارون الرشید کا زمانہ تھا۔ بادشاہ کے پاس ایک عیسائی پادری آیا جو بڑا اچھا معالج اور حکیم بھی تھا۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ اسے موقع دیا گیا۔ اس نے کہا کہ میں دین کا علم بھی رکھتا ہوں اور حکمت کا علم بھی جانتا ہوں۔ آپ سے میں یہ پوچھتا ہوں کہ آپ جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں تمام اصول زندگی موجود ہیں۔
کیا قرآن مجید میں انسان کی صحت کے متعلق بھی کوئی اصول بتایا گیا ہے۔ ہارون الرشید نے اپنے پاس موجود علماء سے کہا کہ آپ اس کے سوال کا جواب دیں۔ چنانچہ ایک عالم ’’علی بن حسین‘‘ کھڑے ہوئے اور انہوں نے فرمایا، جی ہمیں قرآن مجید میں جسمانی صحت کے بارے میں ایک بڑا سنہری اصول بتایاگیا ہے۔ پوچھا گیا کہ وہ سنہری اصول کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’تم کھائو پیو مگر اسراف نہ کرو‘‘۔ (الاعراف 31) یعنی بسیاری خوری نہ کرو۔ بلکہ جتنی ضرورت ہے اتنا کھائیے اور پھر اللہ کے گیت گائیے۔ یہ جو زیادہ کھانے سے منع کیا گیاہے یہ ایک ایسا بہترین اصول ہے کہ اگر انسان اس پر عمل کرے تو اس کو زندگی میں بیماریاں آنے کے Chances بہت کم ہو جاتے ہیں۔ وہ حکیم یہ سن کر کہنے لگا کہ میں حکیم ہوں اور میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ یہ ایک بہترین اصول ہے۔ اس نے پھر کہا، کیا تمہارے نبی کریمؐ نے بھی روحانی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کے بارے میں بھی کوئی اصول بتایا ہے کہ آدمی اپنے جسم کا خیال کیسے رکھ سکتا ہے؟ وہ عالم کہنے لگے۔ جی ہاں! اللہ رب العزت کے محبوبؐ نے ہمیں جسمانی صحت کے بارے میں بھی بڑا انمول اصول بتا دیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے حدیث پاک بیان کی جس کا اردو ترجمہ یہ ہے۔ ’’معدہ تمام بیماریوں کی بنیاد ہے، تم جسم کو وہ دو جس کی اس کو ضرورت ہے اور پرہیز علاج سے بہتر ہے۔‘‘ جب عیسائی حکیم نے علی بن حسین کی زبان سے قرآن و حدیث میں موجود طب کے یہ رہنما اصول سنے تو وہ کہنے لگا۔ تمہاری کتاب اور تمہارے رسولؐ نے جالینوس کے لیے کوئی طب نہیں چھوڑی۔



















































