پیر ذوالفقار احمد نقشبندی بتاتے ہیں کہ بیرون ملک جانے والا ہوائی جہاز اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اس کے اندر پانچ سو مسافر آ جاتے ہیں۔ پھر وہ اتنا اونچا اڑ رہا ہوتا ہے کہ جب ہم اسے دیکھتے ہیں تو ایک پرندے کی طرح نظر آتا ہے۔ میں نے ایک دفعہ پیرس سے پرواز کی۔ کسی دوسرے ملک جانا تھا تو جہاز میں بیٹھے ہوئے میں نے نیچے سمندر میں دیکھا تو مجھے مچھلیاں ٹیوٹا کرولا کار کے برابر نظر آئیں۔ یعنی میں جہاز میں بیٹھا ہوں اور مجھے سمندر میں تیرتی ہوئی مچھلیاں ٹیوٹا کرولا کار
کے برابر نظر آتی ہیں تو میں حیران ہوا کہ زمین سے اگر اس ہوائی جہاز کو دیکھتا ہوں تو پرندے کے برابر نظر آتا ہے تو یہ کتنی بڑی مچھلیاں ہوں گی جو جہاز سے بیٹھے ہوئے کار کے برابر نظر آ رہی ہیں۔ اب سوچئے کہ سلیمان علیہ اسلام کے جنوں نے اس مچھلی کو ساری خوراک ڈال دی تو بھی اس مچھلی کا منہ کھلا رہا۔ حضرت سلیمانؑ حیران ہوئے کہ یا اللہ وہ سارا کھانا ختم ہو گیا۔مچھلی سے پوچھا! تو نے اتنا کھایا۔ وہ کہنے لگی میں اس پاک پروردگار کی تعریف کرتی ہوں۔ اے اللہ کے پیارے نبی، جتنا لقمہ آپ نے مجھے کھلایا، اللہ تعالیٰ اس سے تین گناہ بڑا لقمہ روزانہ کھلایا کرتے ہیں۔



















































