ایک مرتبہ حضرت بایزید بسطامیؒ نے سورہ ’’طہ‘‘ کی تلاوت کی۔ رات کو خواب میں دیکھا کہ ایک قرآن مجید ہے جس کے اوپر سنہری حروف میں لکھا ہوا ہے۔ انہوں نے خواب میں بھی سورۃ ’’طہ‘‘ پڑھی۔ وہ بڑے خوش ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں میرے نامہ اعمال میں سورۃ ’’طہ‘‘ کی تلاوت کا اجر لکھ دیا گیا ہے۔جب شوق سے دیکھ رہے تھے تو ایک صفحہ پردیکھا کہ درمیان میں سے کچھ آیتوں کی جگہ خالی ہے، وہ خواب میں ہی بڑے حیران ہوئے کہ یہ جگہ خالی
کیوں ہے، سوچتے رہے، سوچتے رہے، بالآخر اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور خواب میں ہی یہ خیال آیا کہ ہاں جب میں تلاوت کر رہا تھا تو اس وقت ان آیات کی تلاوت کرتے وقت ایک واقف بندہ میرے قریب سے گزرا تھا اور میرے دل میں یہ خیال آیا تھا کہ یہ بندہ میری تلاوت سن کر خوش ہوگا۔ بس دل میں اتنے سے خیال کے پیدا ہونے پر اللہ تعالیٰ نے ان آیات کی تلاوت کے اجر سے محروم فرما دیا کہ دل میں یہ خیال کیوں پیدا ہوا کہ یہ بندہ تلاوت سن کر خوش ہوگا۔



















































