عہد قدیم میں طولون نامی ایک حاکم گزرا ہے۔ وہ دیندار مزاج کا آدمی تھا۔ اس وقت کے حاکم دنیا دار ہونے کے باوجود دیندار بھی ہوا کرتے تھے۔ اس نے ایک مرتبہ ایک بچے کو لاوارث پڑا دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ اس کی ماں نے اس کو جنا اور اسے یہاں چھوڑ دیا۔ چنانچہ اس نے بچے کو اٹھایا۔ اس نے بچے کا نام احمد رکھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ احمد یتیم کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اب اس نے احمد یتیم کو بیٹوں کی سی محبت دی،
اس کی اچھی تربیت کی اور پھر اس کو اپنا خاص مصاحب بنا دیا۔ احمد یتیم بھی بڑا دیانتدار، نیکوکا اور پرہیز گار نوجوان بنا۔کچھ عرصہ کے بعد طولون کی وفات ہونے لگی تو اس نے اپنے بیٹے ابوالجیش کو اپنا نائب بنایا اور پوری سلطنت اس کے حوالے کر دی اور یہ وصیت کی کہ بیٹا! یہ (احمد) تیرا بھائی ہے۔ میں نے اس کی پرورش کی ہے تم بھی ساری عمر اس کا خیال رکھنا۔ اس کے بعد وہ فوت ہو گیا۔ چنانچہ جب ابوالجیش نے کنٹرول سنبھالا تو اس نے بھی احمد یتیم کے ساتھ اچھا تعلق رکھا۔ ایک مرتبہ ابوالجیش کو کسی چیز کی ضرورت پڑی۔ اس نے احمد یتیم کو بلایا اور کہا کہ یہ چابی لیں اور فلاں راستے سے آپ میرے کمرے میں چلے جائیں اور یہ چیز اٹھا کر لے آئیں۔ اس نے دن میں وہ راستہ کھولا اور کمرے میں چلا گیا۔ وہ جیسے ہی اس کمرے میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ ابوالجیش کی ایک باندی جو بڑی خوبصورت تھی اور ابوالجیش اس کے ساتھ بڑی محبت کرتا تھا، وہ اس وقت اس کمرے میں کسی خادم کے ساتھ زنا کی مرتکب ہو رہی تھی۔ اس باندی کو توقع ہی نہیں تھی کہ دن کے وقت بھی مرد کمرے میں واپس آ سکتا ہے، جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا اور یہ معاملہ دیکھا تو وہ مرد بھاگ گیا اور عورت احمد یتیم کو اپنے چکر میں پھنسانے لگی اور اس کی منت سماجت کرنے لگی کہ تم بھی میرے ساتھ وہی کرو جو وہ کر رہا تھا لیکن اس کے دل میں نیکی تھیلہٰذا کہنے لگا، ہرگز نہیں۔
سبحان اللہ، نیک لوگوں کا یہی دستور رہا ہے، چنانچہ احمد یتیم اس بدکار عورت کے چنگل سے نکل گئے اور وہ چیز اٹھا کر اس کمرے سے واپس آ گئے۔ اب اس باندی کے دل میں یہ بات کھٹک گئی کہ اگر یہ جا کر میری شکایت لگائے گا تو مجھے قتل کر دیا جائے گا لیکن انہوں نے اس کا پردہ رکھا اور آ کر وہ چیز ابوالجیش کو دے دی اور بات گول کر دی۔ابوالجیش نے انہی دنوں میں ایک اور نکاح کر لیا اور دوسرا نکاح کرنے کی وجہ سے پہلی بیوی کے پاس وقت گزارنے میں ذرا کمی آنے لگی۔
چونکہ وہ دل میں سوچتی تھی کہ اس کا کوئی نہ کوئی ردعمل ہونا ہے۔ اس لیے اس کے دل میں یہ بات کھٹک گئی کہ احمد یتیم نے میرے خاوند کو سب کچھ بتا دیا ہے جس کی وجہ سے میرے خاوند کی توجہ مجھ سے ہٹ گئی ہے۔عورت کے دل میں جب حسد آ جائے تو پھر وہ کیا کیا مکاریاں کر گزرتی ہے۔ چنانچہ اس نے سوچا کہ میں کسی طرح احمد یتیم کو راستے سے ہٹاؤں۔ ایک دن ابوالجیش اس سے ملنے کے لیے آیا۔ جب اس نے دیکھا کہ میاں بڑی محبت کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور پیار دے رہا ہے تو اس وقت وہ رونے لگ گئی۔
اس نے کہا، تم رو کیوں رہی ہو؟ وہ کہنے لگی، میں کیا بتاؤں، ایک دن احمد یتیم ہمارے کمرے میں آیا تھا، اس نے میرے ساتھ بدکاری کی کوشش کی اور میں نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو اس کے چنگل سے بچایا تھا، جب ابوالجیش نے یہ سنا تو اسے یاد آیا کہ ہاں میں نے ایک مرتبہ دن کے وقت احمد یتیم کو چابی دے کر بھیجا تھا اس نے اس وقت میرے حرم کے ساتھ خیانت کرنے کی کوشش کی ہوگی۔ یہ سوچ کر اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا کہ یہ اتنا خائن شخص ہے اس نے اسی وقت نیت کر لی کہ میں احمد یتیم کو قتل کروادیتاہوں۔
چنانچہ جب وہ دربار میں آیا تو اس نے اپنے خاص بندے کو بلایا اور اسے کہا کہ میں ایک آدمی کو برتن دے کر آپ کی طرف بھیجوں گا اور وہ آپ کو میرا یہ پیغام دے گا، کہ اس برتن کو کستوری سے بھر دو۔ آپ کو یہ کام کرنا ہے کہ وہ برتن جو بندہ لے کر آپ کے پاس آئے گا۔ آپ اس کو قتل کرکے اس کا سر اس برتن میں ڈال کر میرے پاس لے آنا، پھر اس نے احمد یتیم کو بلوایا اور اس سے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ جب اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو اس نے احمد یتیم کو وہ برتن دیا اور کہنے لگا کہ آپ فلاں بندے کے پاس جائیںاور اسے کہیں کہ وہ اس کو کستوری سے بھر کر لائے۔
احمد یتیم کو تو کچھ پتہ نہیں تھا۔ یہ برتن لے کر کچھ آگے گیا تو راستے میں اسی آدمی سے ملاقات ہو گئی۔ جس نے باندی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ اس نے احمد یتیم سے وہ برتن لے لیا کہ یہ کام میں کر دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ آدمی اس خاص بندے کے پاس گیا تو اس نے اسے فوراً قتل کروا دیا اور اس کا سر برتن میں ڈال کر ابوالجیش کے پاس بھجوا دیا۔ جب ابوالجیش کے سامنے احمد یتیم کی بجائے دوسرے آدمی کا سر لایا گیا تو وہ بڑا حیران ہوا ابوالجیش نے احمد یتیم کوزندہ حالت میں دیکھا تو بڑا حیران ہوا کہ میں نے کچھ اور پلاننگ کی تھی۔ یہ کیا ہوا۔
احمد یتیم بھی بڑے حیران تھے کہ برتن میں کستوری کی بجائے اسی خادم کا سر تھا۔اس وقت ابوالجیش نے کہا کہ میں نے تو تمہیں مروانے کے لیے یہ کام کیا تھا۔ اب احمد یتیم کو واضح ہوا کہ اس باندی کے کہنے پر ابوالجیش نے میرے خلاف یہ سب کچھ کیا ہے۔ چنانچہ اب احمد یتیم نے اس کو پوری کہانی سنائی کہ جناب! میں نے آپ کی بیوی کی پردہ پوشی کی تھی مگر اس بدکار عورت نے مجھے راستے سے ہٹانے کے لیے آپ کو میرے خلافکر دیا اور قدرتاً وہی بندہ مرا جو اس کا زیادہ چاہنے والا تھا۔
جب ابوالجیش کو پتہ چلا تو اس نے باندی کو گرفتار کروا لیا۔ جب اس نے پوچھا تو اس نے اپنے گناہ کا اقرار کر لیا۔ ابوالجیش نے اس باندی کو بھی قتل کروا دیا۔ اب ابوالجیش کی نظر میں احمد یتیم کی قدر و منزلت اور بڑھ گئی اور اس نے وصیت کی کہ میرے بعد ان کو بادشاہ بنایا جائے۔ اللہ اکبر!! تو دیکھئے کہ جس کے اندر اخلاص تھا اللہ رب العزت نے اس کو بچا لیا اور بدکردار اور خائن لوگ اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ لہٰذا یہ دستور ذہن میں رکھ لیں کہ مخلص بندہ جب بھی کسی کام کے لیے قدم اٹھاتا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیشہ اس بندے کو سرخرو فرما دیتے ہیں۔



















































