جب ریا دل سے نکلتی ہے تو پھر ’’میں‘‘ کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں اور انسان کے اندر عاجزی بھر جایا کرتی ہے، پھر وہ لوگوں کی کڑوی کسیلی باتیں بھی صبر کے ساتھ سن لیتا ہے۔ حضرت خواجہ عبدالمالک صدیقی پر اللہ تعالیٰ نے دین کے خزانے تو کھولے ہی تھے آخری عمر میں ان پر دنیا کے دروازے بھی کھول دیے تھے۔ چنانچہ ان کو خوب فتوحال حاصل تھیں۔
اس کی وجہ سے ان کے بعض ہم عصر علماء کبھی کبھی ادھر ادھر کی باتیں کردیتے تھے۔ وہ کہتے تھے، جی اتنی بڑی مسجد بنا دی، یہ پیسہ آ گیا وہ پیسہ آ گیا، اللہ کی شان دیکھو کہ مسجد کوئی بناتا ہے اور مروڑ کسی اور کے دل میں اٹھتا ہے۔ حضرت صدیقیؒ خاموش رہتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شہر سے حضرت کے مرید ان سے ملنے کے لیے آئے۔ اس شہر کے ایک بڑے عالم تھے، وہ ان سے ملے اور پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا، جی میں حضرت صدیقیؒ کو ملنے جا رہا ہوں، انہوں نے کہا، اچھا ان کو میرا پیغام دے دینا کہ دنیا اور آخرت دو سوکنیں ہیں جب آدمی ایک سے نکاح کرتا ہے تو دوسری روٹھ جایا کرتی ہے۔ اصل میں انہوں نے چوٹ کی تھی کہ اب آپ پر فتوحات کے دروازے کھل گئے لہٰذا اب آپ اپنے دین کی خیر منائیں۔ جب وہ صاحب حضرت صدیقیؒ کے ہاں آئے اور ان سے ملے تو حضرت نے اس کے حال احوال قدرتاً دریافت کرتے ہوئے یہ بھی پوچھ لیا کہ آپ کے شہر کے وہ بڑے عالم کس حال میں ہیں؟ اس نے کہا جی ٹھیک ہیں۔ پھر پوچھا کہ ان سے آپ کی ملاقات کب ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا، جی آتے ہوئے ملاقات ہوئی تھی۔ حضرت نے پوچھا، بھئی انہوں نے کوئی بات کہی تھی؟ جی ہاں یہ اللہ والے جو اسیس القلوب (دلوں کے جاسوس) ہوتے ہیں۔ جب یہ پوچھا تو وہ صاحب خاموش ہو گئے۔ اب حضرت صدیقیؒ کو اندازہ ہو گیا کہ کوئی بات ہے، چنانچہ حضرتؒ نے فرمایا: جو بات انہوں نے تمہیں کی تھی من و عن وہی بات تم مجھے کہو۔ اب وہ پھنس گیا۔
بہرحال اس نے بادل نخواستہ بتایا کہ حضرت! جب میں ان سے ملا اور بتایا کہ آپ کو ملنے جا رہا ہوں تو بڑے مسکرائے اور کہنے لگے کہ میرا پیغام دے دینا کہ دنیا اور آخرت دو سوکنیں ہیں، جب بندہ ایک سے نکاح کرتا ہے تو دوسری روٹھ جایا کرتی ہے۔ یہ بات سن کر حضرت صدیقیؒ نے سر جھکا لیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو گرنا شروع ہو گئے۔ اتنے آنسو گرے کہ آپ کا دامن آنسوئوں سے تر ہو گیا۔ اب وہ آدمی پریشان ہوا کہ میں نے کون سی بات کر دی کہ حضرت اتنے غمزدہ ہوئے، جب حضرت کافی دیر روتے رہے تو پھر اس نے پوچھا، حضرت اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو آپ مجھے معاف فرما دیں۔ آپ نے فرمایا: نہیں نہیں، آپ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔ اس نے کہا، حضرت! پھر آپ اتنا کیوں روئے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں شکر کی وجہ سے رو رہا ہوں، کہ الحمدللہ اس وقت بھی دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کو ہمارے سیدھے رہنے کی فکر موجود ہے اور وہ ہمیں نصیحتیں کرتے رہتے ہیں۔ اب بتائیے کہ حضرت اس کو جواب میں کیا کہہ سکتے تھے۔ لیکن اپنی عالی ظرفی کی وجہ سے خاموش رہے۔ ہم ہوتے تو کیا کہتے ہیں؟ ہم کہتے کہ بڑے آئے بات کرنے والے۔ یہ نہیں دیکھتے وہ نہیں دیکھتے، مگر نہیں اللہ والوں کی بات ہی اور ہوتی ہے۔



















































