مہلت زندگی کو سمجھنے کے لیے ایک واقعہ کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کا باغ تھا اور اس باغ کے کئی حصہ تھے۔ اور ہر ہر حصہ میں پھل لگے ہوئے تھے۔ چنانچہ بادشاہ نے ایک آ دمی کو بھیجا کہ اس باغ سے پھل توڑ کر لاؤ۔کوشش کرنا کہ تم اچھے پھل توڑ کر لانا۔ میں تم سے خوش ہوں گا اور تمہیں انعام دوں گا۔ لیکن میری ایک شرط ہے کہ جس حصہ سے ایک دفعہ گزر جاؤ گے اس میں تمہیں دوبارہ واپس آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
چنانچہ اس آدمی نے ٹوکری ہاتھ میں لی اور باغ میں داخل ہوا۔ اس نے دیکھا کہ پہلے حصہ میں بہت اچھے پھل لگے ہوئے تھے۔ دل میں آیا کہ یہاں سے پھل توڑ لوں۔ پھر سوچا کہ اگلے حصہ میں دیکھ لیتا ہوں جب اگلے حصہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں بہت اچھا پھل لگے ہوئے ہیں۔ دل میں خیال آیا کہ یہاں سے پھل توڑ لوں۔ پھر سوچا کہ اگلے حصہ میں جا کر توڑ لوں گا۔ ہو سکتا ہے کہ وہاں اور بہتر ہو۔ جب وہاں جا کر دیکھا تو اور بہتر پھل لگے ہوئے تھے۔ دل میں خیال آیا کہا یہاں سے پھل توڑ لوں۔ پھر سوچنے لگا نہیں اپنی ٹوکری میں سب سے بہترین پھل لے کر جاؤں گا۔ اس لیے اگلے حصہ میں دیکھتا ہوں۔ جب اگلے حصہ میں گیا تو دیکھتا ہوں کہ وہاں پر بہت ہی بہترین پھل لگے ہوئے ہیں۔ دل میں خیال آیا کہ یہاں سے پھل توڑ لوں۔ پھر سوچا اگلے حصہ سے توڑ لوں گا۔ جب آخری حصہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ اس حصے کے درختوں پر پھل نہیں لگے ہوئے تھے۔ وہاں رونے کھڑا ہو گیا کہ کاش مجھے پتہ ہوتا تو میں پہلے حصوں میں پھل توڑ لیتا۔ آج میری ٹوکری خالی تو نہ ہوتی۔اے انسان! تیری زندگی کی مثال ایسی ہی ہے۔ تیرا ہر دن تیرے لیے باغ کا حصہ ہے۔ تو اس میں پھلوں کو توڑ سکتا ہے یعنی نیکی کما سکتا ہے۔ لیکن انسان یہی سوچتا ہے کہ میں آج نہیں کل نیکی کر لوں گا۔ اور یہی آج کل کرتے کرتے بالآخر انسان کو موت آ جاتی ہے۔ پھر اسے اتنی مہلت بھی نہیں ملتی کہ اپنے گھر والوں کو وصیت کرے۔ موت آ جاتی ہے تو نہ ایک لمحہ آگے نہ ایک لمحہ پیچھے ہوتی ہے۔ بس انسان کو اپنے وقت پر جانا ہوتا ہے۔ اگر پانی کا پیالہ ہاتھ میں ہو تو اتنی بھی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ پانی کا پیالہ پی لے حتیٰ کہ آدھا سانس اندر ہوتا ہے اور آدھا باہر آتا ہے اور وہیں اس کی روح کو قبض کر لیا جاتا ہے۔



















































