امام ابودائود ایک بڑے محدث گزرے ہیں، ایک مرتبہ وہ ایک کشتی کا سفر کر رہے تھے، ان کے سامنے سے ایک اور کشتی آ رہی تھی۔ ان کو سفر کے دوران اس وقت چھینک آئی۔ جب سامنے سے آنے والی کشتی بالکل قریب تھی۔ جس بندے کو چھینک آئے اسے چاہیے کہ وہ ’’الحمدللہ‘‘ کہے اور ’’الحمدللہ‘‘ کے الفاظ سننے والے کو چاہیے کہ وہ اس کو جواب میں ’’یرحمک اللہ‘‘ کہے
اس کے بعد چھینک والا آدمی اس کے جواب میں ’’یھدیکم اللہ‘‘ کہے۔ چنانچہ انہوں نے چھینک آنے پر ’’الحمدللہ‘‘ کہا۔ ساتھ والی کشتی میں سے ایک آدمی نے ان کی زبان سے ’’الحمدللہ‘‘ سنا تو اس نے جواب میں ’’یرحمک اللہ‘‘ کہا لیکن جب حضرت ابو دائود نے جواب دینا تھا تو کشتی دورجا چکی تھی اور وہاں تک آواز نہیں پہنچ سکتی تھی۔ جب حضرت کنارے پر پہنچے تو وہاں جا کر انہوں نے ایک کشتی کرایہ پر لی اور ایک درہم اس کو دیا اور کشتی سے واپس آئے اور واپس آ کر اس بندے کو جس نے ’’یرحمک اللہ‘‘ کہا تھا اسے جواب میں ’’یھدیکم اللہ‘‘ کہا اور واپس گئے۔ رات کو جب سوئے تو خواب میں کسی کہنے والے نے کہا، ابو دائود کو مبارک باد دے دو کہ اس نے ایک درہم کے بدلے میں اللہ سے جنت خرید لی ہے۔ اللہ اکبر!! محدثین اللہ کی رضا کے لیے یوں اخلاص کے ساتھ عمل کرتے تھے۔ اس وجہ سے آج ان کا فیض جاری ہے۔ آج دنیا ان کی کتابیں پڑھ رہی ہے اور اپنی زندگی شریعت کے مطابق گزار رہی ہے اور وہ حضرات اپنی قبروں کے اندر اس کا اجر و ثواب پا رہے ہیں۔ تو اخلاص والے بندے کی محنت چھوٹی اور اسے اجرت موٹی ملتی ہے وہ کام تو تھوڑا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر بڑا پا لیتا ہے۔



















































