دو بھائی تھے۔ جن میں محبت کا تعلق تھا لیکن بیویوں کی آپس میں نہ بنتی تھی۔ ان میں سے ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو دعوت کھانے کے لیے گھربلایا اور اس کے سامنے کھانا لا کر رکھا۔ اس کی بیوی کو پتہ چلا تو اس نے سامنے سے اٹھا لیا کہ ہم اس بندے کو کھانا نہیں دیتے۔
یہ بھائی دل میں بہت رنجیدہ ہوا۔ اس کے بھائی نے جب چہرے پر غصے کے اثرات دیکھے تو کہنے لگا کہ ایک مرتبہ میں آپ کے گھر آیا۔ یاد رہے کہ آپ نے بھی کھانا میرے سامنے رکھا تھا۔ آپ کی ایک مرغی بھاگتی ہوئی آئی اور سالن میں اس کا پاؤں پڑا تو سالن گر گیا۔ میں نے روٹی نہ کھائی کیونکہ سالن اور نہیں تھا۔ تمہارے گھر کی ایک مرغی نے سالن خراب کر دیا اور میں نے یہ محسوس نہ کیا۔ اگر میری بیوی نے غصے میں کھانا اٹھا لیا تو آپ غصے کیوں ہوتے ہیں۔ دوسرے بھائی نے کہا کہ بات تو سچی ہے، کیا میں اتنا بھی اس کا لحاظ نہیں کر سکتا جتنا اس نے میری مرغی کا کیا تھا۔ چنانچہ بات جلدی سمجھ میں آ گئی۔ معاملہ الجھتے الجھتے بالکل سلجھ گیا۔ اگر سمجھنے کی نیت ہو تو بات جلدی سمجھ میں آ جاتی ہے اگر لڑنے کی نیت ہو تو بات بالکل سمجھ میں نہیںآتی۔ اچھا پڑوسی بن کے رہنا یہ مکارم اخلاق میں سے ہے۔



















































